سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 288 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 288

288 Rapporteur بنایا گیا۔۱۲۳ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو ان سب کمیٹیوں کے اجلاس شروع ہوئے۔کچھ ہی دیر میں کولمبیا کے مندوب نے اسی میں عافیت سمجھی کہ وہ سب کمیٹی کی صدارت سے معذرت کر لیں۔آخری رائے شماری میں بھی کولمبیا غیر جانبدار رہا۔کمیٹیوں میں کمیٹی کا صدر ایک مندوب اور اس کا Rapporteur دوسرے ملک کا سفارتکار ہوتا ہے۔کولمبیا کے میدان چھوڑنے کے بعد سب کمیٹی کے اراکین نے جن کی اکثریت عرب ممالک پر مشتمل تھی یہی فیصلہ کیا کہ پاکستان کے نمایندے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کمیٹی کے صدر اور Rapporteur دونوں کے فرائض سرانجام دیں۔دونوں سب کمیٹیوں نے جو تجاویز مرتب کرنی تھیں ان کے لئے کافی وقت درکار تھا۔اس لئے دونوں سب کمیٹیوں نے تیاری کے لئے کچھ اور وقت مانگا۔جس کمیٹی میں امریکہ اور روس شامل تھے۔اس میں کچھ اختلافات امریکہ اور روس کے مؤقفوں میں بھی ظاہر ہورہے تھے۔گو دونوں ممالک فلسطین کی تقسیم کی پر زور حمایت کر رہے تھے لیکن اس بات پر اختلاف ہورہا تھا کہ یروشلم کی تقسیم کی جائے یا اسے بین الاقوامی نگرانی میں رکھا جائے اور جب اقوام متحدہ تقسیم کی منظوری دے دے تو پھر اس کی تنفیذ کس طرح کی جائے۔امریکہ کا کہنا تھا کہ عبوری دور میں جنرل اسمبلی فلسطین کی نگرانی کرے۔مگر روس کا اصرار تھا کہ جنرل اسمبلی نگرانی کا کمیشن منتخب کرے مگر یہ کمیشن سیکیورٹی کونسل کو جواب دہ ہو (۴)۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی سب کمیٹی نے پہلے کام مکمل کرلیا مگر درخواست کی کہ دونوں تجاویز ایک ساتھ ہی ایڈ ہاک کمیٹی میں پیش کی جائیں۔بالآخر ۱۹ نومبر ۱۹۴۷ء کو ایڈ ہاک کمیٹی کے اجلاس میں دونوں سب کمیٹیوں کی تجاویز پیش کی گئیں۔جب سب کمیٹیاں اپنی تجاویز کو مرتب کرنے کا کام کر رہی تھیں۔اُس دوران ۸ نومبر ۱۹۴۷ء کو سیام (موجودہ تھائی لینڈ ) میں فوجی بغاوت ہوئی اور حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔سیام ایڈ ہاک کمیٹی کا نائب صدر تھا اور اُس وقت تک یہ ملک تقسیم فلسطین کی مخالفت کر رہا تھا۔بہر حال کمیٹی کی کاروائی شروع ہوئی اور پہلی سب کمیٹی نے فلسطین کی تقسیم کی تجویز پیش کی۔دوسری سب کمیٹی جس میں عرب ممالک اور پاکستان شامل تھے ، کی طرف سے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے تین قراردادوں میں تجاویز پیش کیں۔اور ان میں سے پہلی قرار داد نے معاملے کو بالکل نیا رخ دے