سلسلہ احمدیہ — Page 267
267 ذمہ دار لیڈروں میں سے کسی کی تقریر میں آج تک یہ بات واضح نہیں کی گئی کہ ان کا آخری صحیح نظر پاکستان میں اسلامی نظام حکومت قائم کرنا ہے۔برعکس اس کے ان کی طرف سے بصراحت اور جتکرار جس چیز کا اظہار کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے پیش نظر ایک ایسی جمہوری حکومت ہے جس میں دوسری غیر مسلم قو میں بھی حصہ دار ہوں۔(۱۲) اب یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ مودودی صاحب کے نزدیک مسلم لیگ اور اس کے ذمہ دار لیڈروں نے کبھی اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مودودی صاحب کے نزدیک کسی ملک میں اگر جمہوریت ہو یا وہاں پر حکومت میں غیر مسلم بھی شامل ہوں تو وہاں اسلامی نظام قائم نہیں ہوسکتا۔اب تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔اور پاکستان وجود میں آتا ہے۔قائد اعظم پاکستان کے گورنر جنرل بنتے ہیں اور وہی ہوتا ہے جس کا ان علماء کو ڈر تھا۔اور روزِ اول سے ہی وہ اس نئی مملکت کے لئے جو راہنما اصول بیان کرتے ہیں وہ مولویانہ خیالات کے لئے زہر ہلاہل سے زیادہ خطرناک ہیں۔یہ اصول ایک جدید مملکت کے لئے آب حیات تو ہو سکتے ہیں لیکن مولوی صاحبان ان اصولوں سے اتنا ہی ڈرتے ہیں جتنا ایک Rabies کا مریض پانی کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا۔اور اُس کا سانس رکنے لگتا ہے۔۱۱ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کی مجلس قانون سے خطاب کرتے ہوئے بانی پاکستان نے اعلان کیا د میں اس چیز پر جتنا بھی زور دوں کم ہے۔ہم کام کا آغاز اس جذبے سے کر رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ اقلیتی اور اکثریتی فرقوں کا فرق ہندو اور مسلمان فرقوں کا فرق مٹ جائے گا۔کیونکہ مسلمانوں میں بھی پٹھان پنجابی ، شیعہ سنی موجود ہیں اور ہندوؤں میں بھی برہمن ، وشناواس کھتری اور بنگالی اور مدراسی وغیرہ موجود ہیں۔اگر آپ مجھ سے پوچھتے ہیں تو یہ چیز ہماری آزادی کے حصول میں سب سے زیادہ رکاوٹ بنی رہی ہے۔۔۔آپ آزاد ہیں۔آپ اپنے گر جاؤں میں جانے کے لئے آزاد ہیں ، آپ اپنی مساجد میں جانے کے لئے آزاد ہیں، یا جو بھی آپ کی عبادت کی جگہ ہو آپ پاکستان کی ریاست میں وہاں جانے کے لئے آزاد ہیں۔آپ کسی بھی ذات یا کسی بھی عقیدہ سے تعلق رکھتے