سلسلہ احمدیہ — Page 262
262 کہ ہر شخص کو اپنے اپنے طریق پر چلنے کی اجازت ہے۔(۱) بدقسمتی سے مذہبی جماعتوں کے ذہنوں میں یہ بات بری طرح چھائی ہوئی تھی کہ دینِ اسلام کے مقاصد صرف ایک مذہبی حکومت کے قیام سے ہی پورے ہو سکتے ہیں۔لیکن اسلامی حکومت میں قانون سازی کے بنیادی اصول کیا ہوں گے، اس بنیادی سوال پر بہت کم توجہ کی جاتی تھی۔اسی طرح یہ حقیقت بھی فراموش کر دی جاتی تھی کہ اکثر قرآنی احکامات تو انفرادی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔جب تک معاشرے کا ایک بڑا حصہ ان احکامات کی پیروی نہ کر رہا ہو اس وقت تک محض قانون سازی سے یا ایک حکومت کا نام اسلامی حکومت رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔جنوری ۱۹۴۷ء میں حضور نے لاہور میں ایک لیکچر دیا جس کا عنوان تھا 'پاکستان کا آئین۔اس میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کے بیان کردہ قوانین کا ایک حصہ غیر متبدل ہے اور ایک حصہ ایسا ہے جس میں زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق مناسب تغیر و تبدل کی اجازت دی گئی ہے۔حضور نے قرآنِ کریم سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام نے قانون سازی کے یہ بنیادی اصول مقرر کئے ہیں (۱) ہر قانون حکمت اور دلائل پر مبنی ہونا چاہئیے (۲) ہر نہی کسی نقصان کو دور کرنے کے لئے ہونی چاہئیے (۳) کوئی قانون کسی فرد یا کسی پارٹی کو نقصان پہنچانے یا کسی خاص طبقہ کی ترقی میں روک ڈالنے کے لئے وضع نہ کیا جائے (۴) اس بات کو بھی مدِ نظر رکھا جائے کہ ایک قوم کو دوسری قوم پر ناجائز دباؤ ڈالنے کا موقع نہ ملے۔حضور نے فرمایا کہ اس سلسلے میں اسلام نے سب سے زیادہ زور انفرادی اصلاح پر دیا ہے کیونکہ کوئی قانون قلبی اصلاح کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔جب تک ایک ملک کے باشندے خود اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ڈھالتے ،اس ملک میں اسلامی آئین جاری نہیں ہو سکتا۔اگر افراد اسلامی احکامات پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں تو پھر اسلامی آئین نافذ کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی آپ ہی آپ اسلامی آئین نافذ ہو جائے گا۔چونکہ اسلامی آئین کے نفاذ کا مطلب ہی یہ ہے کہ مسلمانوں سے اسلامی احکامات پر عمل کرایا جائے نہ کہ غیر مسلموں سے بھی اسلئے ہمیں بار بار یہ نہیں کہنا چاہئیے کہ ہم ملک میں اسلامی حکومت قائم کریں گے کیونکہ اس طرح غیر مسلم سمجھتے ہیں کہ شاید ہم سے بھی جبراً اسلام پر عمل کرایا جائے گا۔اس خیال سے انڈین یونین کے ہندوؤں میں بھی یہ روچل پڑے گی کہ ہم بھی مسلمان کو ہندو