سلسلہ احمدیہ — Page 251
251 تبلیغ اسلام کے نئے میدان حضرت خلیفة المسیح الثانی کی مشہور نظم تو نبال ان جماعت سے خطاب کا ایک شعر ہے عسر ہو یسر ہو تنگی ہو کہ آسائش ہو کچھ بھی ہو بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو یہ صرف ایک شعر یا جذبات کا اظہار نہیں تھا۔حضور نے خطرناک ترین حالات میں اس پر عمل کر کے دکھایا اور آپ کی قیادت میں جماعت نے اس کو اپنا لائحہ عمل بنایا۔تقسیم ملک کے معاً بعد جماعت کو ہر قسم کی مشکلات کا سامنا تھا۔قادیان میں محصور احمدیوں کی جانیں خطرے میں تھیں۔بہت سے شہید ہو چکے تھے۔نئی جگہ پر نظام جماعت کو پھر سے قائم کرنا ایک طویل جد و جہد کا تقاضا کر رہا تھا۔نئے مرکز کو آباد کرنے کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی ہو رہی تھیں۔مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا تھا۔یہاں تک کہ ایک وقت میں یہ پابندی بھی لگانی پڑی کہ کوئی ایک روٹی سے زیادہ نہ کھائے۔ربوہ بنا تو خلیفہ وقت کی رہائش بھی کچے مکان میں تھی۔قادیان کی جدائی کے زخم ابھی بالکل تازہ تھے۔دل زخموں سے چور سہی ، سب مشکلات اپنی جگہ پر لیکن ایک فرض تھا جس سے جماعت کسی قیمت پر غافل نہیں ہو سکتی تھی۔اور وہ فرض پوری دنیا میں حضرت محمد مصطف عملہ کا پیغام الله پہنچانے کا فرض تھا۔چنانچہ ان حالات میں بھی صرف اگست ۱۹۴۷ء سے لے کر ۱۹۴۸ء کے آخر تک دس مبلغین بر صغیر سے باہر روانہ کئے گئے۔اور ان مبلغین نے اٹلی ، برطانیہ ، ارجنٹائن، نائیجیریا، سیرالیون ، غانا اور مشرقی افریقہ پہنچ کر تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنا شروع کیا۔اس کے علاوہ نئے ممالک اور علاقوں میں مشنوں کا قیام عمل میں آیا۔ہم مختصراً ان نئے مشنوں کے قیام کا جائزہ لیتے ہیں۔جرمنی جرمنی میں پہلی مرتبہ جماعت کا مشن دسمبر ۱۹۲۳ء میں مولوی مبارک علی صاحب بنگالی اور ملک