سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 241 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 241

241 نئے مرکز کا نام: نئے مرکز کے لئے بہت سے نام تجویز کئے گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مکرم مولانا جلال الدین صاحب شمس کا تجویز کردہ نام ”ربوہ“ منظور فرمایا۔اس کے لغوی معانی بلند جگہ یا ٹیلے کے ہیں۔یہ لفظ قرآنِ کریم کی اس آیت میں استعمال ہوا ہے جس میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کے پناہ لینے کا ذکر ہے۔وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّةً أَيَةً وَ أَوَيْنَهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِيْنِ یعنی اور ابن مریم کو اور اس کی ماں کو بھی ہم نے ایک نشان بنایا تھا اور ان دونوں کو ہم نے ایک مرتفع مقام کی طرف پناہ دی جو پر امن اور چشموں والا تھا۔(۱۶) چونکہ یہاں کی زمین اردگرد کی زمین سے قدرے بلند تھی اس لئے بھی یہ نام موزوں تھا۔ربوہ کے افتتاح کے لئے ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کی تاریخ مقرر ہوئی۔ایک روز قبل مولوی محمد صدیق صاحب اور عبد السلام اختر صاحب کو کچھ خیمے، چھولداریاں اور سائبان دے کر ایک ٹرک پر روانہ کیا گیا۔سیلاب کی وجہ سے راستے کٹے ہوئے تھے اس لئے لمبے راستے سے آنا پڑا۔اس وقت تعلیم الاسلام اسکول چنیوٹ میں کام کر رہا تھا۔یہ دونوں احباب چنیوٹ میں ہیڈ ماسٹر سیدمحموداللہ شاہ صاحب کو کہتے آئے کہ کچھ لڑکوں کو لالٹین دے کر بھجوا دیں۔جب ربوہ کی جگہ پر پہنچے تو سورج ڈوب رہا تھا۔اندازہ کیا کہ اراضی کا وسط کہاں پر بنے گا اور وہاں پر سامان اتارنا شروع کیا۔چند را بگیر حیران ہو کر دیکھ رہے تھے کہ اس بے آب و گیاہ ویرانے میں یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔سامان اتار کر مزدور اور ڈرائیور رخصت ہو گئے۔رات پڑ رہی تھی، خیمے لگائے گئے۔سنسان وادی میں دونوں ساتھی تنہا تھے۔ہر طرف خاموشی تھی۔مولوی صدیق صاحب نے کہا اختر بھائی کچھ سناؤ۔اختر صاحب نے حضرت مسیح موعود کے کچھ اشعار بآواز بلند سنانے شروع کئے۔آواز پہاڑیوں سے ٹکرا کر گونج پیدا کرر ہی تھی۔اتنے میں دور سے ہلکی سی روشنی دکھائی دی۔اسکول کے تین بچے چھ میل دور چنیوٹ سے لالٹین دینے آئے تھے۔ان میں سے دو بچے بنگال کے اور ایک بچہ سیلون کا تھا۔اپنے وطن سے۔