سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 189 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 189

189 بھی خلیفہ وقت کے پیچھے پڑھنے کے لئے نہیں آتے اور نہ ہی انہوں نے شدید ضروریات کے باوجود اپنی خدمات جماعت کو پیش کیں۔ایک طرف تو اکثر جماعتوں نے حفاظت مرکز کے وعدے پورے " بھی کر دئے مگر لاہور سے ابھی تک پورے وعدے بھی نہیں لکھوائے گئے۔حضور نے فرمایا ” جب اس جگہ مرکز کا ایک حصہ آچکا تھا آپ لوگوں کو اسے خدا تعالیٰ کا فضل سمجھنا چاہئیے تھا۔لیکن آپ لوگوں نے کوئی توجہ ہی نہیں کی۔چاہیئے تھا کہ سینکڑوں آدمی اپنے آپ کو خدمات کے لئے پیش کر دیتے اور اگر ان کی ملازمتیں بھی جاتیں تو اس کی پروا نہ کرتے۔جیسے کراچی کے دوستوں نے نمونہ دکھایا۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم قادیان جائیں گے اور چونکہ وہاں سرکاری محکموں میں احمدی زیادہ ہیں دفاتر والوں نے سمجھا کہ اگر سب احمدی چلے گئے تو کام بند ہو جائے گا۔اس لئے انہوں نے چھٹی دینے سے انکار کر دیا۔اس پر کئی احمدیوں نے اپنے استعفے نکال کر رکھ دیئے۔کہ اگر یہ بات ہے تو ہم اپنی ملازمتوں سے مستعفی ہونے کے لئے تیار ہیں۔ایک اخبار جواحدیت کا شدید ترین دشمن تھا۔میں نے خود اس کا ایک تراشہ پڑھا ہے جس میں وہ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ ہوتا ہے ایمان۔‘ (۴) لاہور میں الفضل کا اجراء اور مہاجرین کی مدد کے لئے اقدامات: ان ایام میں جماعت کو ہر قسم کی مالی اور عملی مشکلات کا سامنا تھا مگر اس بات کی فوری ضرورت تھی کہ ان خطر ناک حالات میں احباب جماعت سے رابطے اور ان تک حضور کے ارشادات پہنچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے۔اس غرض کے لئے فوری اقدامات کر کے ۵ ستمبر ۱۹۴۷ء کو مکرم روشن دین تنویر صاحب کی ادارت میں لاہور سے روز نامہ الفضل کی اشاعت شروع کر دی گئی۔اس میں چھپنے والے مضامین صرف احمدیوں کے لئے نہیں تھے بلکہ عظیم مشکلات کے اس دور میں تمام اہلِ وطن کی ڈھارس بندھانے اور ان کی راہنمائی کے لئے بھی مضامین شائع ہوتے تھے۔تاریخ میں چند ماہ کے اندر اتنی بڑی نقل مکانی شاید ہی کبھی ہوئی ہو، جتنی اس وقت مشرقی اور مغربی پنجاب کی سرحد پر ہو رہی تھی۔ہندو اور سکھ بڑی تعداد میں مغربی پنجاب کو چھوڑ کر مشرقی