سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 174 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 174

174 تھا۔خدا کا مقرر کردہ خلیفہ ایک ڈھال کی طرح جماعت کی حفاظت کر رہا تھا۔چنانچہ دس اگست ۱۹۴۷ء کو لائیڈ ز بینک (Lioyds Bank) امرتسر میں جماعت کے اکا ؤنٹ سے چار لاکھ اکیس ہزار روپے کی رقم بذریعہ تار کراچی کے لائیڈ ز بینک میں منتقل کر دی گئی اور اس کے ساتھ صدر انجمن احمدیہ کے خزانے کا ایک حصہ لاہور منتقل کر دیا گیا تا کہ وہاں سے کراچی منتقل کر دیا جائے۔جب پاکستان میں جماعت کا انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے ، نیا مرکز بنانے سلسلے کی روز مرہ اخراجات اور مہاجرین کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مالی وسائل کی اشد ضرورت پڑی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان اقدامات کے تحت منتقل کی گئی رقوم سے یہ سب کام چلائے گئے۔(۵۳) سید محمد احمد صاحب ابن حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت ایئر فورس میں پائیلٹ تھے اور ان کی تقرری دہلی میں تھی۔انہیں رمضان میں ایک رات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا خط ملا کہ جماعت کے جہاز کو لاہور سے لے کر فوراً قادیان پہنچ جائیں۔انہوں نے چھٹی کی درخواست بھجوائی اور جواب کا انتظار کئے بغیر لاہور روانہ ہو گئے۔چنانچہ یہ جہاز قادیان پہنچ گیا۔اردگر دمختلف مقامات پر سکھوں کے جتھے جمع ہورہے تھے تاکہ مسلمانوں کی آبادیوں پر حملہ کیا جائے۔اس جہاز کے ذریعہ علاقے کا جائزہ لیا جاتا ، تا کہ معلوم ہو سکے کہ کس طرف سے خطرہ ہے۔اس پر خطر دور میں سڑک کے ذریعہ سفر دن بدن زیادہ غیر محفوظ ہوتا جا رہا تھا۔لہذا صدرانجمن احمد یہ کے خزانے کی رقوم ،ضروری دستاویزات ،اہم ڈاک اور بسا اوقات سلسلے کے کارکنان کو جہاز پر لاہور لے جایا جاتا۔حضور کی بصیرت نے اس خطرناک وقت کے لئے وہ تیاریاں کروائی تھیں جس کا کسی اور شخص کو خیال تک نہیں آسکتا تھا۔پھر جماعت نے ایک اور جہاز بھی خرید لیا اور ایک اور احمدی پائیلٹ لطیف صاحب بھی مرکز کی حفاظت کے لئے حاضر ہو گئے۔باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کا اعلان ، ایک عظیم ابتلاء پہلے اطلاعات تھیں کہ پنجاب کے باؤنڈری کمیشن کا اعلان ۱۲ اگست تک ہو جائے گا لیکن اس اعلان کو مؤخر کر دیا گیا۔اسی روز عصر کے بعد حضور کو الہام ہوا أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا، یعنی تم جہاں کہیں بھی ہو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اکٹھا کر کے لے آئے گا۔حضور نے فرمایا کہ اس