سلسلہ احمدیہ — Page 156
156 تھیں کہ وہ پنجاب کی تقسیم پر اصرار نہ کریں۔اس پس منظر میں بعض اخبارات نے لکھنا شروع کیا کہ اس وقت تو احمدی پاکستان کی حمایت کر رہے ہیں مگر جب پاکستان بن جائے گا تو ان کے ساتھ مسلمان پھر وہی سلوک کریں گے جو کابل میں کیا گیا تھا۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا قطع نظر اس کے کہ مسلم لیگ والے پاکستان بننے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔وہ ہمارے ساتھ وہی کا بل والا سلوک کریں گے یا اس سے بھی بدتر معاملہ کریں گے۔اس وقت سوال یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے جھگڑے میں حق پر کون ہے اور ناحق پر کون۔۔۔۔ہم نے بار بار ہندوؤں کو توجہ دلائی کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر رہے ہیں۔یہ امر ٹھیک نہیں۔ہم نے بار بار ہندوؤں کو متنبہ کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کو اس طرح نظر انداز کر دینا بعید از انصاف ہے۔اور ہم نے بار بار ہندو لیڈروں کو آگاہ کیا کہ یہ حق تلفی اور یہ نا انصافی آخر رنگ لائے گی۔مگر افسوس کہ ہمارے توجہ دلانے ہمارے انتباہ اور ہمارے ان کو آگاہ کرنے کا نتیجہ کبھی کچھ نہ نکلا۔(۳۸) حضور نے فرمایا کہ خواہ ملازمتوں کا معاملہ ہو یا تجارتوں کا، ہر معاملے میں ہندوؤں نے مسلمانوں سے نا انصافی کی۔یہاں تک کہ جب احرار نے جماعت احمدیہ کی مخالفت شروع کی تو ہندوؤں نے احرار کی پیٹھ ٹھونکی اور ان کی مدد کرتے رہے۔ان سے کوئی پوچھے کہ ان کا وفات مسیح یا ختم نبوت کے مسائل سے کیا تعلق تھا؟ احرار کی طرف سے ہندو وکلاء مفت پیش ہوتے تھے۔حضور نے فرمایا کہ میں نے اس بارہ میں پنڈت نہرو کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ آپ لوگوں کی احرار کے ساتھ ہمدردی کس بناء پر ہے۔اور یہ طرفداری کیوں کی جارہی ہے۔انہوں نے ہنس کر کہا سیاسیات میں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔یہ جو کچھ آج کل ہو رہا ہے۔یہ سب گاندھی جی ، پنڈت نہرو اور مسٹر بٹیل کے ہاتھوں سے رکھی ہوئی بنیادوں پر ہورہا ہے اور انگریزوں کا بھی اس میں ہاتھ تھا۔(۳۸) ممکنہ بحران کی تیاری: افق پر مستقبل میں پیش آنے والے حالات کے آثار نظر آرہے تھے۔چنانچہ حضور نے جماعت کو روزوں اور دعاؤں کی تلقین فرمائی۔آنے والے وقت میں جماعت کو قادیان کی حفاظت اور دیگر