سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 122 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 122

122 مشتمل ایک طویل اور صبر آزما جد و جہد کے بعد فروری ۱۹۴۷ء میں پہلے دس سپاروں پر انگریزی تفسیر کی پہلی جلد تیار ہوئی۔اس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے اس کے لئے ایک مقدمہ تحریر فرمایا جو ۶ ۲۷ صفحات پر مشتمل تھا اور اپنی ذات میں خود ایک قابلِ قدر تصنیف کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ دیباچہ حضور نے اردو زبان میں ڈکٹیٹ فرمایا تھا اور حضور کا ارادہ تھا کہ اس کی طباعت سے پہلے اس کی نظر ثانی فرمائیں گے مگر ۱۹۴۷ء اور ۱۹۴۸ء کے پُر آشوب دور میں حضور کی گوناں گوں مصروفیات کی وجہ سے اسے بغیر نظر ثانی کے شائع کرنا پڑا۔اس دیباچہ میں ضرورت قرآن مجید اور تمام بنی نوع انسان کے لئے اسلام کی ضرورت ، پرانی کتب میں تحریف کی وجہ سے پیدا ہونے والی خامیوں اور متضاد باتوں، ظہور آنحضرت ﷺ کی بابت پیشگوئیوں آنحضرت ﷺ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزہ سیرت ، قرآنِ کریم کی پیشگوئیوں اور معجزات جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس دیباچے کا ترجمہ پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کیا۔اب تک دیباچہ تفسیر قرآن کا انگریزی ، فرنچ ، رشین اور انڈونیشین کی زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے تھے۔ابھی پہلی جلد کے فرمے تیار ہوئے تھے کہ تقسیم ملک کی وجہ سے پنجاب کے حالات خراب ہونا شروع ہو گئے اور یہ فرمے لا ہور منتقل کئے گئے۔۱۹۴۸ء کے آغاز میں یہ جلد پڑھنے والوں کے ہاتھ میں پہنچی۔صلى الله آزادی کے معا بعد ترجمہ کرنے والے بورڈ کے انچارج حضرت مولوی شیر علی صاحب انتقال فرما گئے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب پر بہت کی انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا۔اب باقی ماندہ سارے کام کا بوجھ حضرت ملک غلام فرید صاحب کے کندھوں پر تھا گو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مشورہ میں شامل ہوتے تھے۔۱۹۶۰ء میں قرآنِ کریم کی انگریزی تفسیر کی دوسری جلد شائع ہوئی۔اس کے بعد اشاعت اور تقسیم کے انتظامی کام اور پیٹنٹل اینڈ ریجس پبلشنگ کارپوریشن ربوہ کے سپرد ہو گیا تو حضرت ملک غلام فرید صاحب اپنی تمام توجہ تصنیف اور تحقیق پر مرکوز کر سکے۔چنانچہ تیسری جلد صرف تین سال میں تیار ہوکر ۱۹۶۳ء میں شائع ہوگئی۔(۱) دیباچہ تفسیر القرآن مصنفہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ص ۱و۲