سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 121 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 121

121 جائے جو مغربی اقوام میں اسلام کے بارے میں رائج ہو چکے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اس کام کے لئے مقرر فرمایا اور اور ہدایت فرمائی کہ قرآن مجید کا ترجمہ بمع تفسیری نوٹس کے مرتب کیا جائے۔وہیری جیسے مصنفین نے قرآن کریم کے تراجم اپنے تفسیری نوٹس کے ساتھ شائع کئے تھے اور ان نوٹس کا واحد مقصد لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنا تھا۔ان وجوہات کی بنا پر مغربی ممالک میں قرآن کریم کے متعلق جو غلط خیالات رواج پاچکے تھے ان کی تردید کے لئے اور اسلام کا حقیقی حسن دکھانے کے لئے ان تفسیری نوٹس کی شدید ضرورت تھی۔مگر اس کے ساتھ ہی ان کی تیاری گہری تحقیق اور طویل جد و جہد کا تقاضہ بھی کرتی تھی۔۱۹۳۳ء میں حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو بھی اس کام میں شامل فرمایا۔اس کام کے لئے جو بلند پایہ تحقیق ہو رہی تھی اُس کے لئے کئی ایسی کتب کی ضرورت تھی جو ہندوستان میں دستیاب نہیں تھیں۔چنانچہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کو حضور کے ارشاد کے ماتحت انگلستان بھجوایا گیا۔جہاں کی لائیبریریوں میں مطلوبہ کتب با آسانی دستیاب ہو سکتی تھیں۔آپ ۱۹۳۶ء میں انگلستان تشریف لے گئے جہاں آپ نے تین سال قیام فرمایا۔اس دوران آپ نے بے شمار نوٹس ترجمۃ القرآن کے لئے تحریر کئے جو بعد میں انگریزی کی تفسیر میں شامل کر دیئے گئے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کے واپس آنے کے بعد ۱۹۴۲ء میں ، کام کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے حضور نے علماء کا بورڈ مقرر فرمایا۔اس میں حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت ملک غلام فرید صاحب شامل تھے۔ان بزرگان نے کام کو آگے بڑھانا شروع کیا۔اکثر اوقات بورڈ کے ممبران ایک میز پرا کھٹے ہوتے اور ایک ایک لفظ پر بحث ہوتی۔ایک ایک فقرہ بڑی احتیاط اور باہمی مشورے کے بعد لکھا جاتا۔تشریح کرتے ہوئے یہ دیکھا جاتا کہ پرانے مفسرین نے اس آیت کی کیا تشریح کی ہے؟ احادیث میں کیا لکھا ہے؟ حضرت مسیح موعودؓ ، حضرت خلیفہ اسی الاول اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس کے کیا مطالب بیان فرمائے ہیں؟ لغات کی اچھی طرح چھان بین کی جاتی۔مخالفین کے اعتراضات کو مد نظر رکھا جاتا۔ان کے جوابات تیار کئے جاتے۔بعض اوقات چھپے چھپائے فرمے بھی رد کر کے نئے سرے سے مواد لکھنا پڑا۔اس دوران چوہدری ابوالہاشم صاحب مرحوم کو بھی خدمت کی توفیق ملی۔