سلسلہ احمدیہ — Page 103
103 میں حضرت مسیح موعود نے چلہ کشی فرمائی تھی۔(۲) جلسے کے روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس میدان میں پہنچ چکے تھے۔مجمع میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔حضور پونے دو بجے لاہور سے جلسہ گاہ میں تشریف لائے۔ظہر اور عصر کی نمازیں جلسہ گاہ میں پڑھائی گئیں۔جلسے کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد حضرت مولانا عبدالرحیم در ڈ صاحب نے مختصر تقریر فرمائی اور ہوشیار پور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی چلہ کشی کے حالات بیان کئے۔پھر حضور کا خطاب شروع ہوا۔سورۃ فاتحہ کے بعد آپ نے قرآنی دعاؤں کی تلاوت فرمائی۔یہ دعائیں کچھ ایسے سوز سے ادا کی گئیں کہ دل اللہ تعالیٰ کی خشیت اور محبت سے بھر گئے۔آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔مجمع میں موجود کئی ہندؤں کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے۔حضور نے اپنے خطاب میں پیشگوئی مصلح موعود کی تفاصیل بیان فرمائیں۔اور اس بات کا حلفیہ اعلان فرمایا کہ آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق ہیں۔اس کے بعد مختلف مبلغین نے مختصر تقاریر میں بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے جو پیشگوئی شائع فرمائی تھی کہ مصلح موعودؓ کے ذریعے احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک روشن ہوگا ، وہ کس شان سے پوری ہوئی۔آخر میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے یہ پر شوکت اعلان فرمایا د میں آسمان کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔ہوشیار پور کی ایک ایک اینٹ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں۔کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔حکومتیں اگر اس کے مقابلہ پر کھڑی ہوں گی تو مٹ جائیں گی۔بادشاہتیں کھڑی ہوگی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائینگی۔لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے ان کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے۔اور ان کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔(۳) جلسے کے بعد حضور اور کچھ اور احباب اس مکان میں تشریف لے گئے جہاں پر حضرت مسیح موعود نے چلہ کشی فرمائی تھی اور شوکتِ اسلام کے لئے دعائیں کیں۔اس سلسلے کا دوسرا جلسہ ۱۲ مارچ ۱۹۴۴ئکو لاہور میں منعقد کیا گیا۔ایک بڑا شہر ہونے کے علاوہ لاہور کی ایک اہمیت یہ بھی تھی کہ یہی وہ مقام تھا جہاں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر یہ انکشاف ہوا