سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 674 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 674

674 مسلمانوں کے قبرستان سے منتقل کیا جائے۔مقدمہ عدالت میں گیا فریقین نے اپنے اپنے حق میں قرآنی آیات سے دلائل پیش کئے۔جج نے ترجمہ دیکھنے کے لئے غیر احمدی مولویوں سے قرآن کریم طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ بت پرست ہیں اور ناپاک ہیں اس لئے ہم اپنا قرآن آپ کو نہیں دے سکتے۔جب احمدیوں سے قرآنِ کریم مانگا تو انہوں نے قرآن کریم دے کر کہا کہ یہ ہماری طرف سے تحفہ ہے آپ اسے پڑھیں اور اس کی سچائی پر غور کریں۔حج نے متاثر ہوکر بے ساختہ کہا کہ پھر تو آپ ہی اسلام کے صحیح نمائیندے ہیں۔اور بالآ خر مقدمہ خارج کر دیا گیا۔مکرم ابراہیم صاحب کے قصبہ میں ہی تامل زبان کے ایک شاعر جناب نلا محمد صاحب رہا کرتے تھے۔ایک مخالف نے اُن کو حضرت مسیح موعود کی تصنیف کشتی نوح اس فرمائش کے ساتھ دی کہ اس کتاب کی تردید تامل اشعار میں لکھیں۔جب انہوں نے یہ کتاب پڑھی تو اتنا متاثر ہوئے تو خود بھی بیعت کی اور ان کی ایک ہمشیرہ بھی بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گئیں۔محترم مولانا سلیم صاحب کے بعد تیرہ سال وہاں پر کوئی مبلغ وہاں نہیں جا سکا۔اس کے بعد مکرم منیر احمد صاحب باہری کو ۱۹۵۳ء کے وسط میں برما کا مبلغ ومشن انچارج بنا کر بھیجا گیا۔وہاں پر آپ کا قیام چار سال تک رہا اور ان سالوں میں برما کی جماعت نے علمی اور عملی میدان میں اپنا قدم آگے بڑ جایا۔اور آپ کے برما میں قیام کے دوران چینی اور برمی زبان میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔اور حضرت مصلح موعودؓ کی تقریر Why I believe in Islam کا برمی ترجمہ شائع کیا گیا۔۱۹۵۶ء میں برما میں امارت کا نظام کا اجراء ہوا اور حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے مکرم عبد الغنی صاحب کو امیر مقرر کیا گیا۔مکرم منیر احمد باہری صاحب کی واپسی کے بعد مکرم منیر احمد عارف صاحب برما میں مبلغ مقرر ہوئے۔اور تین سال تک وہاں پر خدمات سرانجام دیں۔۱۹۶۰ء میں رنگون میں جماعت کی بڑی مسجد مکمل ہوئی اور اس کی چار منزلہ عمارت کا افتتاح کیا گیا۔حضور نے اس کا نام رنگون مسجد رکھا۔قانونی دقتوں کے بعد مکرم منیر احمد عارف صاحب کی واپسی کے بعد مرکز سے وہاں پر مبلغ بھجوانا ممکن نہ رہا۔البتہ برما میں مکرم خواجہ بشیر احمد صاحب کو وہاں کا مبلغ انچارج مقرر کیا اور ۱۹۶۵ء میں آپ نے با قاعدہ طور پر زندگی وقف کر دی۔(۱) (۱) تاریخ بر مامشن مرتب کرده وکالت تبشیر ربوه