سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 673 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 673

(۳) الفضل ۲۲ ایریل ۱۹۴۹ء ص ۲ (۴) الفضل ۲۶ اپریل ۱۹۴۹ء ص ۲ (۵)الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۵۰ء ص ۱ (۶) الفضل ۱۶ اکتوبر ۱۹۵۲ ء ص ۵ (۷) تاریخ ماریشس مشن ص ۶۵ - ۶۶ (۸) الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۵۲ء ص ۵ (۹) تاریخ ماریشس مشن ص۶۹-۷۰ (۱۰) الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۶۱ء ص ۵ (۱۱) الفضل ۱۹ جولائی ۱۹۶۱ء ص ۵ 673 (۱۲) الفضل ۴ اپریل ۱۹۶۲ء ص برما مکرم مولانا احمد خان صاحب نسیم نے ۱۹۳۵ء سے لے کر ۱۹۳۹ء تک برما میں بطور مبلغ خدمات سرانجام دیں۔آپ کے بعد مرکز نے مکرم مولانا محمد سلیم صاحب کو برما میں مبلغ مقرر کیا۔آپ کو وہاں پر صرف آٹھ ماہ تک خدمت کی توفیق مل سکی۔اس کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے شروع ہونے کے باعث آپ واپس ہندوستان تشریف لے آئے۔آپ کے برما قیام کے دوران حضرت مصلح موعود کی تصنیف دعوۃ الامیر کا برمی ترجمہ شائع کیا گیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی افواج نے برما پر قبضہ کر لیا۔جس کے نتیجے میں بہت سے ان ہندوستانی احمدیوں کو جو برما میں سکونت رکھتے تھے وہاں سے نکلنا پڑا۔کچھ نے وہاں کی شہریت اختیار کر لی ان میں اکثریت تامل احمدیوں کی تھی اور کچھ مدراسی اور پنجابی بھی تھے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جو احمدی برما میں رہ گئے تھے انہوں نے کوشش کر کے رنگون سے سات میل دور Kamayut میں ایک چٹائیوں کی بنی ہوئی کچی مسجد تعمیر کی۔اس کے لئے مکرم پیر محمد صاحب کی اہلیہ نے زمین وقف کی تھی۔اُن دنوں برما کی جماعت کے ایک مخلص احمدی مکرم ابراہیم صاحب تھے جن کے خاندان کے بہت سے افراد نے احمدیت قبول کی تھی۔آپ ایک مخیر دوست تھے اور مالی قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ان کا ایک نواسہ کم عمری میں فوت ہو گیا۔مولویوں نے شور مچا دیا تھا کہ یہ کافر تھا اس لئے اس کی قبر کو