سلسلہ احمدیہ — Page 659
659 ظہور احمد صاحب باجوہ نے اس کو اظہار ناراضگی سمجھتے ہوئے وضاحت پیش کی۔حضور جہاں ایک طرف مبلغین کی نگرانی اور راہنمائی فرماتے تھے وہاں ان کے ساتھ نہایت مشفقانہ سلوک بھی فرماتے تھے۔جب حضور کی خدمت میں یہ وضاحت پیش ہوئی تو آپ نے تحریر فرمایا:۔دفتر خط تبشیر کو بھجوا دے اور ان کو کہدے ان امور پر اظہارِ رائے کو اظہارِ ناراضگی سمجھنا غلطی ہے۔اپنا مشورہ دینا اور رائے دینا ہمارا فرض ہے۔یہ ناراضگی نہیں ہوتا بلکہ معمولی فرض کی ادائیگی ہوتی ہے۔(۱۸) لندن مشن کی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ ۱۹۵۵ء میں حضرت مصلح موعود کا دورہ ہے۔جس کا تفصیلی ذکر پہلے گذر چکا ہے۔جہاں لندن مشن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں پر صحابہ نے بطور مبلغ کام کیا ، وہاں انگلستان کی جماعت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ایک صحابی مکرم میر عبد السلام نے یہاں پر مستقل قیام کیا اور آپ لندن جماعت کے ایک بہت سرگرم کارکن تھے۔۲ستمبر ۱۹۵۹ء کو انگلستان میں ہی آپ کی وفات ہوئی۔(۱۹) تمام تر مصروفیات اور بیماری کے باوجود حضور بیرونی مشنوں کی رپورٹوں اور ان کی کاوشوں میں گہری دلچسپی لیتے اور بعض مرتبہ بعد میں بعض ایسے امور کی بابت دوبارہ دریافت فرماتے جو بظاہر غیر اہم دکھائی دے رہے ہوتے۔اور انفرادی تبلیغ کے چھوٹے چھوٹے واقعات کے متعلق بھی حضور دریافت فرماتے۔اس کا اندازہ اس مثال سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ مکرم مولود احمد خان صاحب نے جو ۱۹۵۵ء میں مشن کے انچارج تھے حضور کی خدمت میں ایک تفصیلی خط لکھا۔جس میں ایک آئرش نوجوان مسٹر فلپ کی بیعت کا لکھنے کے علاوہ دیگر امور کا ذکر بھی کیا تھا۔اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا:۔در پورٹ اور مسٹر فلپ کی بیعت ملی۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے۔اس نوجوان کا کیا حال ہے جو اس سے الگ کمرہ میں ملا تھا اور روحانیت اور تعلق باللہ کے متعلق باتیں پوچھتا رہا تھا۔اور ان میاں بیوی کا کیا حال ہے وانڈز ورتھ کے رہنے والے ہیں جو کمیونسٹ جس نے شخص کا لکھا ہے اس کو تبلیغ جاری رکھیں۔شخص ہمارے لئے مفید ہوسکتا ہے