سلسلہ احمدیہ — Page 575
575 پہلے تین ہفتہ آپ ہوٹل میں ٹھہرے اور مشن کے لئے مکان کی کوشش شروع کی گئی۔شہر ایک محلہ آجاے(Adjame) میں آپ کو ایک چھوٹا سا مکان کرایہ پرمل گیا۔ابھی آپ ہوٹل میں قیام پذیر تھے کہ آپ کے پاس مالی کے ایک صاحب بیچی تر اولے صاحب اور ان کے دو ساتھیوں مکرم شا کا با مبا صاحب اور مکرم محمد صاحب کے ہمراہ آپ سے ملنے آئے۔مکرم مقبول ساحب نے ان لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوٹو دکھائی اور بتایا کہ آپ ہی امام مہدی ہیں جن کی آمد کی خوشخبری آنحضرت ﷺہ دی تھی۔جب یہ تینوں احباب وہاں سے نکل رہے تھے تو بیچی تر اولے صاحب نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ آدمی جھوٹا ہے۔لیکن چند روز بعد آپ نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص انہیں کہتا ہے کہ امام مہدی نے ایک ہی علاقے میں آنا تھا۔باقی علاقوں میں تو کوئی اور آدمی ہی اس کا پیغام لے کر جائے گا۔اس خواب کی بنا پر ان تینوں ساتھیوں کو اطمینان ہو گیا اور انہوں نے احمدیت قبول کر لی۔اس طرح آئیوری کوسٹ میں تبلیغ کا آغاز ہوا۔ابتداء میں فرانسیسی زبان صحیح طرح نہ جاننے کی وجہ سے دقت کا سامنا تھا ، اس لئے زبان بہتر بنانے کی طرف توجہ دینی پڑی۔انفرادی رابطوں سے تبلیغ کا کام شروع کیا گیا۔پہلے آجامے اور پھر آبی جان کے دوسرے علاقوں میں ملاقات کر کے احمدیت کا پیغام پہنچایا۔جو اہل علم فرانسیسی جانتے تھے انہیں اسلامی اصول کی فلاسفی کا فرانسیسی ترجمہ دیا گیا اور عربی جاننے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی کتب مطالعہ کے لئے دی گئیں۔اخبارات میں مضامین لکھنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔رفتہ رفتہ کچھ سعید روحیں احمدیت میں داخل ہونے لگیں۔اور آبی جان میں ایک مختصر جماعت قائم ہوئی۔مکرم قریشی مقبول صاحب کے زمانے میں زیادہ تر تبلیغی مساعی آبی جان میں ہی مرکوز رہی تاہم بعض دیگر مقامات تک بھی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچایا گیا۔زیر تبلیغ افراد میں صرف مقامی باشندے ہی شامل نہیں تھے۔مالی، لبنان، گنی، نائیجیریا اور غانا سے آئے ہوئے احباب تک بھی حقیقی اسلام کا پیغام پہنچایا گیا۔(۲) جماعت بن جانے کے بعد ان کی تربیت ایک مسلسل جد وجہد کا تقاضہ کرتی ہے۔چنانچہ آئیوری کوسٹ میں تربیت کا عمل بھی شروع ہوا۔احباب جماعت کو بار بار چندوں کی طرف توجہ دلائی گئی اور ان کو قرآن کریم پڑھانے کا انتظام بھی کیا گیا۔