سلسلہ احمدیہ — Page 425
425 حیثیت بالکل ختم ہو چکی تھی اور اسی ناکامی کی حالت میں وہ اس عالم فانی سے رخصت ہو گئے۔فاعتبروا یا اولی الابصار حکومت کی طرف سے احمدیوں پر مظالم : اب تک جماعت کے مخالف مولویوں کے خلاف کاروائی ہو رہی تھی ، ان کی گرفتاریاں ہو رہی تھیں اور ان کو سزائیں مل رہی تھیں کیونکہ یہی لوگ ملک میں فساد برپا کرنے والے تھے۔لیکن اب حکام کو یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ اس طرح کہیں اُن پر مرزائی نواز ہونے کا الزام نہ آجائے۔جب کہ دوسری طرف اُن کے علم میں تھا کہ جماعت احمد یہ ایک امن پسند جماعت ہے اور فتنہ وفساد سے اُن کا دور کا تعلق بھی نہیں۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت میں پولیس افسران نے یہ اعتراف کیا، اگر احمدیوں نے کچھ کیا ہے تو وہ صرف زبانی الفاظ یا اخباروں میں مقالات کی اشاعت تک محدود تھا۔اس کے برعکس احرار کچھ ایسے کام کر رہے تھے جو قانون شکنی اور تشدد کی طرف لے جانے والے تھے۔(۱۲۰) سردار عبدالرب نشتر اُس وقت مرکزی کابینہ میں وزیر تھے اور عمومی طور پر جماعت کے مخالف سمجھے جاتے تھے لیکن انہوں نے بھی عدالت کے روبرو اقرار کیا، مجھے جماعت احمدیہ سے کسی بدامنی کا خدشہ نہیں تھا۔(۱۲۱) لیکن کاروائی میں نام نہاد توازن پیدا کرنے کے لئے احمدیوں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یکم اپریل کو فجر کے وقت فوجیوں نے رتن باغ لاہور کا محاصرہ کرلیا۔جہاں اُس وقت خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ گھرانے مقیم تھے۔اور تلاشی لینے کا عمل شروع ہوا۔لیکن جب کوئی قابلِ اعتراض چیز نہیں ملی تو پھر دن چڑھنے کے بعد دوبارہ تلاشی لی گئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔اور ان دونوں مقدس وجودوں کو جن الزامات کی بنا پر گرفتار کیا گیا ، وہ حکام کے ذہنی عدم توازن کا منہ بولتا ثبوت تھے۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی بیگم صاحبہ مالیر کوٹلہ کے نواب