سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 414 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 414

414 چلنے کے حق میں شواہد موجود نہیں تھے۔اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جھوٹی افواہ بھی ان فسادات کو بر پا کرنے والوں نے پھیلا کی تھی تا کہ جب فوج یا پولیس فسادات کو قابو کرنے کے لئے نکلے تو لوگ مقابلہ کریں اور ملک میں بغاوت کا ماحول پیدا ہو جائے۔اور مودودی صاحب قول سدید سے کام لینے کی بجائے غلط بیانی سے کام لے کر تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس دن احمدیوں کو قتل کیا جا رہا تھا، ان کے مکانات جلائے جا رہے تھے، ان کی املاک لوٹی جارہی تھیں۔اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔اگر احمدیوں نے کہیں گولیاں چلانی تھیں تو اپنی جانوں اپنی املاک کی جائز حفاظت میں چلاتے۔نہ کہ ادھر اُدھر اندھا دھند فائرنگ کرتے پھریں۔عقل ہی اس الزام کو رد کر دیتی ہے۔۵ مارچ کا المناک دن: ۵ مارچ اور چھ مارچ کو احمدیوں کے خلاف تشد د اپنے عروج پر اور شورش کی اخلاقی حالت پستی کی انتہا کو پہنچ گئی۔دشمن اس خیال میں تھا کہ پنجاب کی حکومت کو کچھ اپنا ہم نوا بنا کر اور کچھ بے بس کر کے اور معاشرے میں احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلا کر اب وہ اپنی منزل کے قریب پہنچ چکا ہے۔وہ اس خیال میں تھے کہ چند روز میں وہ جبر و تشدد کا ایسا طوفان اُٹھا ئیں گے کہ یا تو احمدیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا یا پھر انہیں ارتداد پر مجبور کر دیا جائے گا۔مخالفین یہ خیال کر رہے تھے کہ احمدی بھی اُن جیسی فطرت رکھتے ہیں۔یہ اُن کی سب سے بڑی بھول تھی۔اب صوبہ پنجاب کے اکثر مقامات پر روزانہ جلوس نکل رہے تھے جو احمدیوں کے گھروں کا محاصرہ کر لیتے۔احمدیوں کو مخش گالیاں نکالی جاتیں، ان کے خلاف نعرے لگائے جاتے اور ارتداد نہ کرنے کی صورت میں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتیں۔اپنی فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسخروں جیسی حرکات کی جاتیں تا کہ احمدیوں کو زیادہ سے زیادہ اذیت پہنچے۔یہ سب کچھ تو صرف آغاز میں ہوتا۔پھر اکثر مقامات پر پتھراؤ شروع کر دیا جاتا کھڑکیاں دروازے توڑ دیئے جاتے تاکہ گھروں کا مال واسباب لوٹنے میں آسانی ہو اور بہت سی جگہوں میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ مچائی جاتی یا سامان نذر آتش کیا جاتا یا گھر کو آگ لگائی جاتی۔اہل خانہ کو زدوکوب کیا جاتا۔بہت سے بلوائی نام نہاد ہمدرد بن کر آتے اور کہتے کہ