سلسلہ احمدیہ — Page 287
287 اور ہماری طرف سے بالکل بے نیاز تھے۔میری تقریر کا پہلا حصہ تو تاریخی اور واقعاتی تھا جس کے بعض حصوں سے بعض عرب مندوبین بھی ناواقف تھے۔جب میں نے تقسیم کے منصوبے کا تجزیہ شروع کیا اور اس کے ہر حصہ کی نا انصافی کی وضاحت شروع کی تو عرب نمائیندگان نے توجہ سے سننا شروع کیا۔تقریر کے اختتام پر ان کے چہرے خوشی اور طمانیت سے چمک رہے تھے۔اس کے بعد اس معاملہ میں عرب موقف کا دفاع زیادہ تر پاکستان کا فرض قرار دے دیا گیا۔‘ (۵) اگر چه عرب نمائیندگان میں سے بعض کی تقاریر بھوس آراء سے مرصع تھی مگر چونکہ انہوں نے اُس وقت تک کسی مرکزی ہدایت کے تحت اپنی تقاریر کو اور دلائل کو ترتیب نہیں دیا تھا اس لئے بہت سا وقت غیر متعلقہ دلائل میں صرف ہو گیا۔اُن کا موقف ہر لحاظ سے اتنا مضبوط اور قرین انصاف تھا کہ غیر متعلقہ دلائل کی طرف رجوع کرنا مؤقف کو کمزور کرنے کے مترداف تھا۔شروع سے ہی یہ بات ظاہر و باہر تھی کہ کمیٹی میں فیصلہ دلائل کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔نیوزی لینڈ کی نمائیندگی سر کارل کر رہے تھے۔چوہدری صاحب کی ایک تقریر کے بعد کمیٹی سے نکلتے ہوئے انہوں نے حضرت چوہدری صاحب سے کہا کیسی اچھی تقریر تھی ، صاف، واضح ، دلائل سے پر اور نہایت مؤثر۔چونکہ وہ خود نہایت اچھے مقرر تھے اس لئے چوہدری صاحب کو اُن کے تبصرے سے خوشی ہوئی۔اُن کا شکر یہ اد کیا اور دریافت کیا سر کارل پھر آپ کی رائے کس طرف ہو گی۔وہ خوب ہنسے اور کہا ” ظفر اللہ رائے بالکل اور معاملہ ہے۔‘(۵) ایڈ ہاک کمیٹی کے صدر نے دو سب کمیٹیاں تشکیل دیں۔پہلی سب کمیٹی میں وہ ممالک شامل تھے جو فلسطین کی تقسیم کی حمایت کر رہے تھے۔اس میں امریکہ سوویت یونین اور جنوبی امریکہ سمیت دس ممالک شامل تھے۔دوسری سب کمیٹی میں وہ ممالک شامل کئے گئے جو عربوں کے موقف کی حمایت کر رہے تھے اور تقسیم کے خلاف تھے۔اس میں مصر ،شام ،سعودی عرب ،عراق ، یمن ، پاکستان، افغانستان، کولمبیا اور لبنان شامل تھے۔ان دوسب کمیٹیوں کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ اپنی آراء کو حتمی شکل دے کر ایڈ ہاک کمیٹی میں رائے شماری کے لئے پیش کریں۔پہلے کولمبیا کو دوسری کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا اور پاکستان کے نمائندے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو کمیٹی کا