سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 256 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 256

256 حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال حضرت اماں جان کا وجود جماعت کے لئے بہت سی برکات کا باعث تھا۔آپ حضرت مسیح موعود اور جماعت کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں۔آپ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفاقت کے لئے منتخب فرمایا تھا۔اور آپ سے شادی سے قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہو ا تھا اُشْكُرُ نِعْمَتِي رَتَيْتَ خَدِيجَتِی ، میرا شکر کر تو نے میری خدیجہ کو پالیا۔(۱) ۱۹۴۷ء کے حالات اور قادیان سے جدائی پوری جماعت کی طرح آپ کے لئے بھی صدمے کا باعث تھی لیکن آپ نے اس ابتلاء کو بلند حوصلے کے ساتھ برداشت کیا۔ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا آپ کی عظیم شخصیت کا ایک نمایاں وصف تھا۔جب حضرت مسیح موعود کا وصال ہوا تو آپ نے إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہا اور خاموش ہو گئیں۔بعض مستورات نے رونا شروع کیا ، تو آپ نے انہیں ڈانٹ کر فرمایا کہ میرے تو خاوند تھے میں نہیں روتی تم رونے والی کون ہو۔بچوں کی وفات اکثر ماؤں کے صبر کا امتحان بن جاتی ہے۔جب آپ کا پہلا بیٹا بشیر اول فوت ہونے لگا تو اس وقت نماز کا وقت آگیا۔تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنی نماز کیوں قضاء کروں اور نماز پڑھنی شروع کر دی۔اسی دوران بچے کی وفات ہو گئی۔جب صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی وفات ہوئی اور حضرت مسیح موعود نے آپ کو فرمایا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے تو آپ نے شکر و رضا کا اظہار کیا اور کہا الحمد للہ میں تیری رضا پر راضی ہوں۔آپ کے اس صبر پر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظریں پڑتی تھیں۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود کو رویا میں دکھایا گیا کہ حضرت اماں جان کہتی ہیں کہ میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود جواب میں فرماتے ہیں کہ اسی سے تو تم پر حسن چڑھا ہے۔جب قادیان سے ہجرت کرنی پڑی تو آپ کی عمر اسی سال سے زیادہ تھی۔یہ صرف جذباتی آزمائش نہیں تھی بلکہ اس صبر آزما دور میں ہر قسم کی مشکلات سے گذرنا پڑ رہا تھا۔آپ کی طبیعت نڈھال رہتی تھی مگر ہمت اور حوصلہ برقرار تھا۔جب حضرت مصلح موعود مستقل سکونت کے لئے ربوہ تشریف لائے تو اس وقت کچے گھروں میں قیام تھا اور آپ کی وفات