سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 247 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 247

247 عمارت بنائی گئی تھی۔ربوہ میں آباد ہونے والوں میں ایسے بھی تھے جو اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکے تھے، انگلستان اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں رہ چکے تھے، جواب بھی وسیع جائیدادیں رکھتے تھے اور بڑے شہروں میں مکانات کے مالک تھے۔وہ اس سے پہلے اس قسم کی زندگی کے عادی نہیں تھے اور اب بھی اگر چاہتے تو کسی بڑے شہر میں آرام کی زندگی گزار سکتے تھے۔ان میں سے اکثر اس بات کا قانونی حق رکھتے تھے کہ مشرقی پنجاب میں چھوڑے ہوئے مکانات کے بدلے پاکستان میں کوئی مناسب مکان حاصل کر لیں۔لیکن وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اس زندگی کو اختیار کر رہے تھے تا کہ ان کے امام کی خواہش کے مطابق جماعت کا نیا مرکز جلد آباد ہو۔وہ ان حالات میں بھی مطمئن اور مسرور تھے۔حضرت مصلح موعود کی مستقل تشریف آوری جماعت کی تاریخ میں ۱۹ ستمبر ۱۹۴۹ء کا دن ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔اس سے قبل حضور کئی مرتبہ ربوہ تشریف لے جاچکے تھے لیکن ابھی تک حضور کی سکونت رتن باغ لاہور میں ہی تھی۔اس تاریخ کو حضور مستقل رہائش کے لئے ربوہ تشریف لے آئے۔حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی حضور کے ساتھ ہی ربوہ تشریف لائیں۔چناب کا پل اتر کر حضور نے گاڑیاں رکوا دیں اور قافلے کے شرکاء کے ہمراہ قبلہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا دہرائی۔رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ و أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَل لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا۔یہ دعا کئی دفعہ نہایت سوز اور رقت سے دہرائی گئی۔اس کے بعد سب دوبارہ موٹروں میں سوار ہو کر ربوہ میں اس وقت بنے ہوئے مکانات کی طرف روانہ ہوئے۔اہل ربوہ اور ارد گرد سے آئے ہوئے سینکڑوں احمدی ایک شامیانہ کے نیچے حضور کا استقبال کرنے کے لئے جمع تھے۔ناظر اعلیٰ حضرت مرزا عزیز احمد صاحب اور دیگر بزرگان نے حضور کا استقبال کیا۔اس وقت حضور وہی دعا دہرا رہے تھے۔نماز ظہر کے بعد حضور نے فرمایا کہ میں امید رکھتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت کی سنت کو سامنے رکھ کر آپ لوگ رستہ تک آگے آکر استقبال کریں گے۔تا کہ ہم متحدہ دعاؤں کے ساتھ ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوتے۔مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔اس لئے اب میں اس کمی کو پورا کرنے کے لئے پھر اس