سلسلہ احمدیہ — Page 196
196 اور ان کی بحالی کا کام بغیر کسی تاخیر کے شروع ہو گیا۔منتشر جماعتوں کی شیرازہ بندی حیران کن سرعت کے ساتھ مکمل کی گئی۔ایک دن کی تاخیر کے بغیر امانت فنڈ میں جمع کی گئی امانتیں لوگوں کو واپس کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔اخبار اور رسائل جاری کئے گئے اور تعلیمی اداروں کو نئے سرے سے زندہ کیا گیا۔اس وقت ہر ممکن کوشش اور تمام دعائیں قادیان واپس جانے کے لئے کی جا رہی تھیں ،مگر اس کے با وجود وقت ضائع کئے بغیر پاکستان میں نئے مرکز کے حصول کی جدوجہد شروع کر دی گئی۔حتی کہ ان حالات میں مجلس مشاورت اور جلسہ جیسی اہم جماعتی روایات کو بھی جاری رکھا گیا۔اور ابھی چند برس نہیں گزرے تھے کہ تمام جماعتی ادارے اپنی پرانی حالت سے بھی بہتر حالت میں آگئے۔یہ سب اس لئے ممکن ہوا کہ حضرت مصلح موعوددؓ کی دعا ئیں اللہ تعالی کے فضل کو جذب کر رہی تھیں اور جماعت ان دعاؤں کے حصار میں آگے بڑھ رہی تھی۔اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ خلیفہ کی اولوالعزم قیادت میں جماعت ہر افسردگی اور مایوسی کے خیال کو ذہنوں سے جھٹکتے ہوئی ایک عزم کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔(۱) تاریخ احمدیت جلدا اص۱۰ (۲) رجسٹر ریزولیشن صدرانجمن احمدیہ قادیان (۳) تاریخ احمدیت جلد ا ا ص ۴۸ - ۵۱ (۴) الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۴۷ء ص ۱-۲ (۵)The partition of India and prospects of Pakistan by O۔K۔H۔Spate, The Geographocal Review XXXVIII 1948, page 18 (۲) مفت روزه المنیر ۱۲ارچ ۱۹۵۶ء ص ۱۰ (۷) تاریخ احمدیت جلدا اص ۴۴۵-۴۶۱ (۸) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۴۸۔۴۷ ص ۳۶ (۹) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۴۸ - ۴۷ ص ۱۲ (۱۰) رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ ۴۷ - ۴۸ ص ۱۴ - ۱۷ (۱۱) رجسٹر ریزولیشن صدر انجمن احمدیہ پاکستان جنوری ۱۹۴۸ء (۱۲) رجسٹر ریزولشن تحریک جدید ۱۹۴۷ء (۱۳) روایت صاحبزادی امتہ الباسط صاحبہ بنت حضرت مصلح موعود