سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 7 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 7

7 کے لئے تیار نہیں ہوں گے، یہ اشتہار بازی شروع کر دی کہ احمدی مباہلہ سے فرار ہو گئے ہیں۔ابھی یہ شور شرابہ جاری تھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی طرف سے اجازت کی تار آ گئی۔جماعت نیروبی نے مباہلہ کے نام سے اشتہار شائع کر کے شہر کی تمام مساجد میں تقسیم کر دیا کہ مخالف مقابل پر آئیں اور مباہلہ کر لیں۔یہ سن کر معاندینِ احمدیت کو سانپ سونگھ گیا اور کسی کو سامنے آنے کی جرات نہیں ہوئی۔جماعت نے ایک اشتہار آسمانی نصرت کا تازہ نشان شائع کر کے اس روحانی معر کے میں جماعت کی فتح کا اعلان کیا (۱۸) مگر نیروبی میں مخالفین کی طرف سے مخالفت کا طوفان جاری رہا۔جماعت کی طرف سے مناظرے کا چیلنج دیا گیا۔اس پر انجمن حمایت اسلام نے احمدیت کی مخالفت کے لئے ہندوستان سے مناظر منگوانے کا فیصلہ کیا۔اور ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار کی وساطت سے جماعت کے ایک دریدہ دہن مخالف لال حسین اختر کو مشرقی افریقہ بلا یا گیا۔(۲۰،۱۹) اس صورتِ حال میں جماعت نیروبی نے حضرت خلیفہ اُسیح الثانی کی خدمت میں مبلغ بھیجوانے کی درخواست بھجوائی۔حضور نے اسے قبول فرماتے ہوئے مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب کو مشرقی افریقہ بھجوایا تا کہ اس خطے میں با قاعدہ دار التبلیغ قائم کیا جائے۔چنانچہ شیخ صاحب ۲۳ نومبر ۱۹۳۵ء کو ممباسہ پہنچ گئے۔غیر مسلم مؤرخین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اس خطے میں مسلمانوں کا پہلا تبلیغی مشن جماعت احمدیہ کی طرف سے قائم کیا گیا تھا ورنہ اس سے قبل اس طرز پر صرف عیسائی مبلغین ہی کام کر رہے تھے۔(۲۱) انجمن حمایت اسلام تو پادریوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے صرف احمدیت کے خلاف دریدہ دینی میں مصروف تھی۔مشرقی افریقہ میں دار التبلیغ کے قیام کا مقصد صرف اس مخالف انجمن کا مقابلہ کرنا نہیں تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے بعض اور اہم ہدایات کے ساتھ شیخ مبارک احمد صاحب کو مشرقی افریقہ روانہ فرمایا تھا۔اب تک یہاں کی جماعت صرف ہندوستان سے آئے ہوئے افراد پر مشتمل تھی۔یہاں کے اصل باشندوں میں ابھی احمدیت پھیلنی شروع نہیں ہوئی تھی۔حضور کی ہدایت تھی کہ یہاں کے اصل باشندوں میں کام شروع کیا جائے کیونکہ یہاں جماعت کو حقیقی استحکام تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب یہاں کے اصل باشندوں پر مشتمل جماعت تیار ہو جائے۔۔(۲۲) بہر حال شیخ صاحب کی آمد کے بعد فوری مسئلہ اس فتنے کا سدِ باب کرنا تھا