سلسلہ احمدیہ — Page 138
138 برصغیر میں انتخابات، ہندوستان کی آزادی اور تقسیم، داغ ہجرت پنجاب میں انتخابات کے متعلق حضرت مصلح موعود کا فیصلہ: پنجاب کی صورتِ حال کے متعلق حضور نے وضاحت فرمائی میں نے پنجاب کو مستثنیٰ رکھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اسجگہ مسلم لیگ کے بعض کارکن بلا وجہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔مسلم لیگ ایک سیاسی انجمن ہے اور اسے اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے ہر مسلمان کہلانے والے کو مسلمان سمجھ کر اپنے ساتھ شریک کرنا چاہئے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہماری جماعت تو ہر جگہ مسلم لیگ کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہے مگر لاہور کے مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں جماعت احمد یہ کو خوب خوب گالیاں دی گئیں۔حالانکہ گالیاں دینا تو دشمن کے حق میں بھی روا نہیں۔کجا یہ کہ ایک ایسی جماعت کو گالیاں دی جائیں جو مسلم لیگ کے بارے میں بے تعلق بھی نہیں بلکہ اس کے حق میں ہے۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ گالیاں دینے والے تو چند افراد ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ جو جماعت چند افراد کا منہ بند نہیں کر سکتی وہ عام جوش کے وقت کسی اقلیت کی حفاظت کس طرح کر سکے گی۔جماعت احمدیہ نے اپنا معاملہ مسٹر جناح کی خدمت میں پیش کیا تھا انہوں نے جواب دیا ہے کہ صوبہ جاتی سوال کو صوبہ کی کونسل ہی حل کر سکتی ہے۔مگر جہانتک میں نے غور کیا ہے صوبہ جاتی کونسل ابھی اس سوال کو حل کرنیکے اپنے آپ کو قابل نہیں پاتی۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ یونینسٹ پارٹی نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ مرکزی نمائندگی میں مسلم لیگ کے نمائندوں کا مقابلہ نہیں کرے گی یہ ایک نیک اقدام ہے۔۔۔۔۔۔مگر یونینسٹ لیڈر جو فیصلہ کرینگے اس کا علم مجھے اس وقت نہیں اس لئے بادلِ نا خواستہ میں پنجاب کے متعلق یہ اعلان کرتا ہوں کہ پنجاب کے بارے میں ہم کوئی اصولی مرکزی پالیسی سر دست اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔‘‘ (۱)