سلسلہ احمدیہ — Page 128
128 پوسٹ ڈیم (Postdam) کے مقام پر امریکہ، برطانیہ اور سوویت یونین کے لیڈروں کی ایک اہم کانفرنس ہو رہی تھی۔اور ہزاروں میل دور نیو میکسیکو کے مقام پر تاریخ انسانی کے خوفناک ترین ہتھیار کے پہلے تجربے کی تیاریاں ہو رہی تھیں، جس کی تباہ کاری کے سامنے تمام سابقہ ہتھیار کھلونوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے۔۱۶ جولائی ۱۹۴۵ء کو امریکی صدر ٹرومین کو پیغام ملا کہ نیو میکسیکو میں ہونے والا ایٹم بم کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔اگلے روز ہی صدر ٹرومین نے اعلیٰ سطح کی میٹنگ طلب کی۔اس وقت فوجی جنرلوں نے صدر کو یہی مشورہ دیا کہ اس بم کو استعمال کرنے کی بجائے ، جاپان پر طے شدہ پروگرام کے مطابق حملہ کیا جائے۔صدر ٹرومین کے بعض مشیر اس کے استعمال کی حمایت کر رہے تھے، آخری فیصلہ صدر کے ہاتھ میں تھا۔ٹرومین نے ایٹم بم کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ان کا موقف تھا کہ یہ بم استعمال نہ کرنے کی صورت میں جنگ اور طویل ہو جائے گی اور امریکی فوج اور مخالفین کا مزید جانی نقصان ہو گا۔۲۴ جولائی کو ایئر فورس کے متعلقہ افسر کو ہدایت دی گئی کہ ۳ اگست کے بعد کے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپان کے ان تین شہروں میں سے کسی ایک پر ایک سپیشل بم گرانے کی تیاریاں کی جائیں۔اس کے ساتھ ہی جاپان کو ایک ایلٹی میٹم جاری کیا گیا۔۲۸ جولائی کو جاپان ریڈیو نے اعلان کیا کہ جاپان جنگ جاری رکھے گا۔بالآخر ۶ / اگست کو وہ دن آ گیا جو دنیا کی تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے۔ایئر فورس کا ایک 29۔B جہاز ایٹم بم کو لے کر ہیروشیما کی طرف جا رہا تھا۔کرنل پال ٹیٹس (Paul Tibbets) اس جہاز کی کمان کر رہے تھے۔ستم ظریفی یہ کہ اس ایٹم بم کا نام نھا لڑکا (little boy) رکھا گیا تھا۔شہر کے وسط میں پہنچ کر بم کو گرا دیا گیا۔زمین کی سطح سے قریباً ۶۰۰ میٹر کے فاصلے پر بم پھٹ گیا۔ایک عظیم شعلہ تھا جس نے سارے شہر کو جھلس کر رکھ دیا۔ایک عظیم دھما کا تھا جس کے آگے ہر چیز خاک کے ذروں کی طرح بکھرتی گئی۔ایک موت کا پیغام تھا جس کے نتیجے میں اسی ہزار انسان تو فوراً مر گئے اور ایک لاکھ سے زائد بعد میں ریڈیائی شعاؤں کے اثر اور دیگر عوارض سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے۔صدر ٹرومین بحری جہاز Augusta میں امریکہ واپس آرہے تھے کہ انہیں اس تباہی کی خبر دی گئی۔ان کے پاس اس بھیانک تباہی پر غمزدہ ہونے کا وقت نہیں تھا یا اس کی صلاحیت نہیں تھی۔اس بم کے استعمال کے مستقبل میں کیا مضمرات ہو سکتے ہیں اس کی انہیں کوئی فکر نہیں تھی۔وہ