سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 127 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 127

127 مسلمان وزیر مسلم لیگ سے باہر سے لیا جائے۔مگر مسلم لیگ کو یہ منظور نہیں تھا۔تمام بحث و تحیث کے بعد جولائی کے وسط میں یہ کانفرنس بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی۔اس طرح باہمی تعاون اور افہام و تفہیم سے آزادی کی منزل کی طرف بڑھنے کا یہ سنہرا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔وزیر ہند ایمرے نے وائسرائے ویول کے نام مراسلے میں لکھا کہ اب یا تو کانگرس کو پاکستان کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑے گا یا پھر انہیں جناح کے مقابل پر مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔کانگرس میں شامل مسلمانوں کے نمائشی چہرے سے کام نہیں چلے گا۔یہ ضروری نہیں ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلمان اکثریت کے صوبوں میں جناح کو کو مکمل کامیابی حاصل ہو لیکن اگر ایسا ہو گیا تو پھر اس دعوے کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ تمام مسلمان نمائندے مسلم لیگ سے ہی ہونے چاہئیں۔(۷) اس کا نفرنس کے اختتام کے معاً بعد وائسرائے نے تمام ہندوستان کے گورنروں کی میٹنگ طلب کی۔جب سیاسی اختلافات ایک بند راستے کے اختتام پر پہنچ جائیں تو پھر ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ انتخابات کرا کے عوام کی رائے معلوم کر لی جائے۔اس میٹنگ میں بھی یہ تجویز زیر غور تھی۔پنجاب کے گورنر گلانسی کا خیال تھا کہ فوری انتخابات نہیں کرانے چاہئیں۔بلکہ ایک اقتصادی منصو بہ بندی کا نفرنس منعقد کرنی چاہئیے جس کے نتیجے میں مسلم لیگ پر نظریہ پاکستان کے سقم واضح ہو جائیں گے۔بنگال کے گورنر کا کہنا تھا کہ سوائے مسٹر جناح کے کسی کو علم ہی نہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے۔(۷) ابھی ہندوستان میں سیاسی منظر افراتفری کا شکار تھا کہ برطانیہ کے سیاسی پس منظر پر بھی ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی۔جب لیبر پارٹی نے متحدہ حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو وزیر اعظم چرچل کی حکومت نے نئے انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔جولائی ۱۹۴۵ء کے آخر میں نئے انتخابات ہوئے اور غیر متوقع طور پر لیبر پارٹی انتخابات جیت گئی اب چرچل۔ا ڈاؤننگ سٹریٹ سے رخصت ہورہے تھے اور ایٹلے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے ذمہ واریاں سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ہیروشیما اور ناگا ساکی کی تباہی اور حضور کی طرف سے اس کی شدید مذمت انہی دنوں میں پس پردہ خطرات کا ایک عفریت دبے پاؤں انسانیت کی طرف بڑھ رہا تھا۔