سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 120 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 120

120 ۱۷۳۴ میں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ شائع کیا تھا۔سیل نے اس ترجمے کے ساتھ ایک طویل دیباچہ بھی لکھا تھا جس میں اُس نے قرآنِ کریم میں منقول تاریخی واقعات کو بائیبل اور یہودی روایات کی خوشہ چینی قرار دیا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ یقیناً قرآن کریم آنحضرت ﷺ کی تصنیف ہے جس میں کچھ بیرونی ہاتھوں نے آپ کی اعانت کی تھی۔اس طرح انہوں نے مطالعہ سے قبل ہی پڑھنے والے کے خیالات کو قرآن کریم کے خلاف کرنے کی کوشش ہے۔یہی ترجمہ انگریزی بولنے والی اقوام میں رائج رہا۔۱۸۶۱ء میں پادری راڈویل نے ترتیب نزول کے حساب سے اپنا ترجمہ شائع کیا۔۱۸۸۰ء میں پامر (Henry Palmer) نے اپنا ترجمہ شائع کیا۔پھر ۱۹۳۰ء میں ایک انگریز نو مسلم پکتھال (Pickathal) نے۔ان کے بعد کچھ اور انگریزوں نے بھی قرآنِ کریم کے تراجم کئے۔خود ہندوستان کے مسلمانوں کی طرف سے بھی قرآنِ کریم کے کئی تراجم شائع ہو چکے تھے۔۱۹۰۰ ء میں مرزا ابوالفضل نے الہ آباد سے اور ۱۹۰۵ء میں ڈاکٹر عبد الحکیم نے اپنا ترجمہ شائع کیا۔یہ صاحب پہلے حضرت مسیح موعود کی بیعت میں تھے ، مگر بعد میں اُنہوں نے اس قسم کے عقائد کا اظہار شروع کر دیا کہ نجات کے لئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔فقط تو حید پر ایمان کافی ہے۔ان ملحدانہ عقائد کی وجہ سے حضرت مسیح موعود نے اُن کا اخراج از جماعت کر دیا تھا۔ظاہر ہے جس کے عقائد کا یہ عالم ہو اُس کا ترجمہ قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتا۔حضرت خلیفہ اسیج الاول کے عہد میں قرآن کریم کے انگریزی ترجمہ کا کام شروع ہو گیا تھا۔اور مولوی محمد علی صاحب اس کام کے نگران تھے۔جب خلافتِ ثانیہ کے آغاز میں منکرین خلافت مولوی محمد علی صاحب کی سرکردگی میں علیحدہ ہوئے تو وہ قادیان سے جاتے ہوئے اس ترجمے کا مسودہ بھی ساتھ لے گئے۔حالانکہ یہ ترجمه صدر انجمن احمد یہ قادیان کے خرچ پر کیا جا رہا تھا اور انجمن کی ملکیت تھا۔۱۹۱۷ء میں مولوی محمد علی صاحب کا ترجمہ قرآن مجید انجمن اشاعت اسلام لاہور نے شائع کیا۔ان کے بعد مرزا حیرت دہلوی، حافظ غلام سرور صاحب اور عبد الماجد دریا آبادی صاحب کے کئے ہوئے تراجم شائع ہوئے۔مگر حضرت مسیح موعود کے ظہور کے ساتھ فہم قرآن اور علوم قرآن کی ایک نئی دنیا جو عرصہ سے دنیا کی آنکھوں سے اوجھل تھی دوبارہ ظاہر ہوئی تھی۔اب اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ ان محروم اقوام تک اسلام اور قرآن کریم کی اصل تصویر پہنچائی جائے۔اور اُن غلط نظریات کا دلائل سے رد کیا