سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 104 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 104

104 تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس عظیم پیشگوئی کا مصداق آپ کی ذات ہے۔جلسے کا انتظام پٹیالہ ہاؤس کے ساتھ میدان میں کیا گیا تھا۔اس میں نہ صرف احمدی احباب بڑی تعداد میں شامل ہوئے بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہندؤں سکھوں اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے احباب نے بھی شرکت کی اور آخر تک تمام جلسے کی کاروائی سنی۔حضور کی آمد سے قبل آپ کا یہ ارشاد بار بار لاؤڈ سپیکر پر سنایا جاتا رہا کہ درود اور ذکر الہی میں وقت گزاریں۔لغو بات کوئی نہ کرے۔دعائیں کثرت سے کریں۔نعرہ کوئی نہ لگائے۔جلسے کے آغاز پر تلاوت قرآنِ کریم کے بعد حسب سابق حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب درڈ نے ہوشیار پور میں حضرت مسیح موعود کی چلہ کشی کے حالات سنائے۔اس کے بعد حضرت مصلح موعود کا خطاب شروع ہوا۔یہ تقریر منکرین خلافت کے لئے حجت تھی ،مخالفین جماعت کے لئے حجت تھی ، اور اسلام کے دشمنوں کے لئے حجت تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو پسر موعود کے متعلق خوشخبری دی تھی کہ كـأن الـلـه نـزل من السماء گویا خدا آسمان سے اتر آیا ہے۔جلسے میں موجود لوگ ایسا ہی نظارہ اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ایک موقع پر تو حضور کی زبانِ مبارک پر یہ الفاظ جاری ہوئے کہ اس وقت میں نہیں بول رہا۔بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے۔(۴) حضور کے خطاب کے بعد دوسرے مقررین نے دنیا کے مختلف مقامات پر احمدیت کا پیغام پہنچنے کے موضوع پر تقاریر کیں۔آخر میں حضور نے فرمایا: میں اسی واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتوں کا کام ہے اور جس پر افتراء کرنے والا اس کے عذاب سے کبھی بیچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اسی شہر لاہور میں ۱۳ ٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے مکان پر یہ خبر دی کہ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں۔اور میں ہی وہ مصلح موعود ہوں جس کے ذریعہ اسلام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا اور تو حید دنیا میں قائم ہوگی۔‘ (۵) دنیا میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوتا ہے تو بدنصیبوں کی طرف سے اس کی مخالفت کی جاتی ہے ،استہزاء کیا جاتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے و اذا راوا آية يستسخرون (۶) اور جب بھی وہ کوئی نشان دیکھیں تو مذاق اڑانے لگتے ہیں۔اس نشان کے ظہور