سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 92 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 92

92 آیات کی تفسیر فرمائی۔دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ قصص کہانیوں کے طور پر نہیں تھے بلکہ عالم الغیب خدا کی طرف سے اترے ہوئے معارف تھے ، جن کی صداقت وقت کے ساتھ ثابت ہوتی گئی۔مستشرقین نے قرآن حکیم پر بائیبل کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اور قرآن میں بیان کردہ واقعات کو بائیل کی خوشہ چینی قرار دیا ہے۔آپ نے تفسیر کبیر میں عقلی دلائل اور تاریخی شواہد سے ان اعتراضات کا بطلان ظاہر کیا۔بہت سے مفسرین نے ہر پیشگوئی کو روز قیامت پر چسپاں کر دیا تھا۔جبکہ نئے دور میں ایک کے بعد دوسری قرآنی پیشگوئی پوری ہوتی جا رہی تھی۔حضور نے حضرت مسیح موعود کے علم کلام کی روشنی میں قرآن کریم کے اس زندہ معجزے کو دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔اکثر مستشرقین نے قرآنی آیات سے غلط استدلال کر کے سیرت النبی ہے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔آپ نے دلائل کے ساتھ ان اعتراضات کو غلط ثابت فرمایا۔اس دور میں ترتیب قرآن پر بہت شد ومد سے اعتراضات کئے گئے ہیں۔مغربی مصنفین نے یہ اعتراض بار باراٹھایا ہے کہ قرآن کریم میں ایک موضوع چل رہا ہوتا ہے، پھر یکلخت بالکل مختلف موضوع پر آیات شروع ہو جاتی ہیں اور اس کے بعد کسی اور مضمون کا آغاز ہو جاتا ہے۔مثلاً مشہور مصنف کا رلائل نے اپنی کتاب میں بہت سے پہلوں سے آنحضرت ﷺ کی عظمت کا اعتراف تو کیا ہے بلکہ انبیاء میں سے صرف آنحضرت ﷺ کو ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے مگر ترتیب قرآن کے موضوع پر پہنچ کر انہوں نے بھی دوسرے مستشرقین کی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔اور نعوذ باللہ قرآن کریم کو confused ferment قرار دیا ہے۔(۱۰) روڈ ویل (Rodwell) نے جب اپنا ترجمہ قرآن شائع کیا تو یہ مسئلہ اٹھایا کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب نا قابلِ فہم ہے اس لئے اس نے ترتیب نزول کے اعتبار سے قرآنِ کریم کو شائع کیا۔مسلمان یہ اعتقاد تو رکھتے تھے کہ قرآنِ مجید کی موجودہ ترتیب وحی الہی کے ماتحت رکھی گئی تھی مگر وہ اعتراضات کے اس طوفان کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔حضور نے دلائل سے ثابت فرمایا کہ تمام آیات اور سورتوں کی ترتیب میں گہری حکمت اور ربط ہے۔اور ترتیب قرآن کے متعلق یہ دلائل تفصیل سے تحریر فرمائے۔اگر مستشرقین یہ حکمت دیکھ نہیں پا رہے تھے تو اس کی وجہ صرف قلت تذ برتھی۔تفسیر کبیر سے صرف ایک نئی تفسیر کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ تفسیر اور موازنہ مذہب کے علم کو ایک