سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 87 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 87

87 پریسبیٹیرین (presbyterian) پادری تھے ، اپنے دیباچے میں وہ واضح کر دیتے ہیں کہ اس تفسیر کے لکھنے کا مقصد ان عیسائی مشنریوں کی علمی مدد کرنا ہے جو ان کی طرح مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ان کی تفسیر کی بنیاد غلط ترجمے پر تو تھی ہی ،اس کے علاوہ انہوں نے مسلمانوں کی جن تفاسیر سے استفادہ کرنے کا حوالہ دیا ہے وہ بھی اکثر غیر معروف اور دوسرے درجے کی تفاسیر ہیں۔اپنی تفسیر میں انہوں نے تقریباً ہر صفحے پر قرآن کریم پر اعتراضات کیئے ہیں۔الغرض اس دور میں ہر طرف سے قرآنِ مجید پر اعتراضات کا طوفان اٹھایا جا رہا تھا۔قرآن کریم کے منجاب اللہ ہونے پر تمسخر کیا جاتا۔قرآنِ کریم کی اخلاقی تعلیم پر اعتراضات کیئے جاتے۔قرآن کریم کے بیان کردہ تاریخی واقعات کو بائیبل کا سرقہ قرار دیا جاتا۔واعظوں کے ذریعے ، کتب کے ذریعے ، رسائل کے ذریعے ، غرض ہر ممکنہ راستے سے قرآن شریف پر حملے کیئے جارہے تھے۔عوام الناس کی طرف سے ہی نہیں بلکہ سکالرز کی طرف سے بھی جو اعتراضات اٹھائے جارہے تھے ان کی بنیاد علم پر نہیں کم علمی پر تھی۔لیکن اس وقت عیسائی اقوام کی دنیا پر حکومت تھی اور پادری حضرات اس دبدبے سے بھر پور فائیدہ اٹھا رہے تھے۔ان حملہ آوروں کو ہر قسم کے وسائل حاصل تھے اور مسلمانوں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ دفاع نہیں کیا جا رہا تھا اور ان کی اپنی تفاسیر میں ایسی باتیں داخل ہو چکی تھیں جن کی وجہ سے مخالفین کو طرح طرح کے اعتراضات کا موقع مل رہا تھا۔عیسائیوں کے علاوہ آریوں نے بھی قرآن شریف کے متعلق دریدہ دینی شروع کر دی اور بد زبانی میں سب کو پیچھے چھوڑ گئے۔یہ خوفناک صورت حال دیکھ کر مسلمانوں کے دل بیٹھے جا رہے تھے لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے، ” إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُوْنَ (۵) یعنی یقیناً ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔یہ وعدہ صرف ظاہری الفاظ کی حفاظت تک محدود نہیں بلکہ معنوی حفاظت کی خوش خبری بھی دیتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا اور ۱۸۸۰ء میں حضرت مسیح موعود نے براہینِ احمدیہ کی پہلی جلد کو شائع فرمایا اور تمام مذاہب کو چیلنج دیا کہ اس کتاب میں حقیقت فرقان مجید کے بارے میں قرآنِ مجید سے ہی جو دلائل دیئے گئے ہیں اگر کوئی صاحب اپنی الہامی کتاب میں سے ان کا پانچواں حصہ بھی نکال کر دکھا دیں تو ان کو ایک کثیر رقم بطور انعام دی جائے گی ، اور اگر اس کی توفیق نہیں تو کم از کم ان دلائل کو ہی