سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 80 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 80

80 60 جماعت کا نظام افتاء اسلام کی تعلیمات زندگی کے تمام شعبوں میں ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔جس طرح انسان عقائد اور عبادات کے معاملے میں راہنمائی کا محتاج ہے اسی طرح وہ آسمانی روشنی کے بغیر جسمانی صفائی ، گھریلو زندگی ، کاروباری معاملات، معاشرتی مسائل ، اخلاقیات اور بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں بھی سنگین غلطیوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔یہ پابندی نہیں بلکہ رحمت ہے۔آغاز اسلام میں جب آنحضرت ﷺ کا با برکت وجود سامنے موجود تھا، تو صحابہ براہ راست آپ سے قرآنی آیات کا مطلب سمجھ لیتے اور آپ کا ہر عمل، ہر ارشاد اور حتی کہ آپ کے چہرے کے تاثرات اور آپ کا سکوت بھی لوگوں کے لئے مشعلِ راہ بن جاتا۔جب دور کے علاقوں میں بھی اسلام پھیلنے لگا تو بہت سے لوگ آپ سے دین سیکھ کر جاتے اور اپنے اپنے علاقوں میں جاکر دوسروں کی راہنمائی کرتے۔صحابہ کا یہ گروہ کس بنیاد پر لوگوں کی تربیت کرتا اور ان کے درمیان فیصلے کرتا اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھجوایا تو آپ نے دریافت فرمایا کہ جب تمہارے پاس کوئی معاملہ فیصلے کے لئے لایا جائے گا تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے، حضرت معادؓ نے عرض کی کہ میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔پھر آپ نے دریافت فرمایا کہ اگر اس کا فیصلہ تمہیں کتاب اللہ سے نہ ملے۔حضرت معاذ نے عرض کی کہ پھر میں سنت رسول ﷺ کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہیں سنت سے بھی راہنمائی نہ ملے۔اس پر حضرت معادؓ نے کہا اس صورت میں میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے آپ کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اللہ کے رسول کے ایچی کو اللہ کے رسول کی مرضی کے موافق کر دیا۔(۱) یہ اسلامی شریعت کی بنیاد ہے۔اور اس کے راہنما اصول یہ بیان کئے گئے تھے کہ اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے لوگوں کے لئے آسانی پیدا کی جائے مشکلات نہ پیدا کی جائیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (۲) یعنی اللہ تمہارے لئے آسانی