سلسلہ احمدیہ — Page 72
72 اظہار کیا جائے۔لیکن رسول مقبول ﷺ کی اتباع میں اس مقدس جھنڈے کو ایک نرالی شان سے لہرایا جار ہا تھا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ تمام احباب ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم کی دعا پڑہتے رہیں۔حضور نے خود پر جوش اور رقت انگیز آواز میں یہ دعا پڑہتے ہوئے لوائے احمدیت کو بلند کرنا شروع کیا۔دعا پڑھتے ہوئے سب مجمع پر ایک خاص کیفیت طاری تھی ، بہت سی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے تھے۔پھریرے کے کھلنے پر اللہ اکبر کے نعرے بلند ہونے لگے۔اور نعرہ ہائے تکبیر کے دوران لوائے احمدیت پوری بلندی پر پہنچ کر لہرانے لگا۔دنیا میں جھنڈا قوموں کے وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تاریخ میں ایسے بہت سے مواقع کا ذکر ملتا ہے کہ دنیا وی جھنڈوں کی حفاظت کے لیے بھی ایک کے بعد دوسرے سپاہی اپنی جان قربان کرتے گئے۔لوائے احمدیت کے ساتھ وابستہ فرائض تو اس سے بہت زیادہ اور وسیع تھے۔چنانچہ اس کے لہرائے جانے کے بعد حضور نے ان الفاظ میں جماعت سے عہد لیا۔حضور اس عہد کے الفاظ پڑہتے اور موجود احباب ان الفاظ کو دہراتے۔اس تاریخی عہد کے الفاظ یہ تھے۔میں اقرار کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اور احمدیت کے قیام اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کے لئے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لئے ہر ممکن قربانی پیش کروں گا۔کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے۔اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اونچا اڑتا رہے۔اللهم امين۔اللهم امين اللهم امين۔ربنا تقبل منا انک انت السميع العليم (۱۳) تیسرے اور چوتھے روز مسئلہ خلافت پر حضرت مصلح موعود کی تقریر: تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے خلافت کی اہمیت نہ سمجھنے اور اس کی قدر نہ کرنے کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا ہے۔وہ کون سا مسلمان ہو گا جو حضرت عثمان اور حضرت علی کے ادوار میں اٹھنے والے فتنوں کا حال پڑھے اور اس کا دل خون کے آنسو نہ روئے۔جب اللہ تعالیٰ سے اپنے وصال کی خبر پا کر حضرت مسیح موعود نے رسالہ الوصیت شائع فرمایا تو اس کے ساتھ ہی یہ خوش خبری