سلسلہ احمدیہ — Page 711
711 المي الـ حضرت خلیفۃ ا الثالث کا پہلا خطبہ جمعہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ایک پیشگوئی کا ذکر حضرت خلیفہ امسح الثالث نے پہلا خطبہ جمعہ مورخہ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء کو ارشادفرمایا۔جولوگ جماعت کی تاریخ کا معمولی سا بھی علم رکھتے تھے وہ جانتے تھے کہ جب حضرت خلیفہ اسیح الاول کا وصال ہوا تو کس طرح ایک گروہ ایسا کھڑا ہوا جو نظام خلافت کا انکار کر رہا تھا۔اور اس وقت مخالفین خوش ہو رہے تھے کہ جماعت میں تفرقہ پڑ گیا ہے۔اور وہ یہ امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ اس تفرقہ کے نتیجے میں یہ جماعت اب انتشار کا شکار ہو جائے گی۔حضرت مصلح موعودؓ کی باون سالہ خلافت کے کارناموں میں ایک اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس دوران آپ نے علمی طور پر عملی طور پر خلافت کے مقام اوراہمیت کو بار بار اس طرح واضح فرمایا اور جماعت کی اس نہج پر تربیت فرمائی کہ جب خلافت ثالثہ کا انتخاب ہوا تو جماعت نے ایک قابل قدر رنمونہ پیش کیا۔دشمنوں کی تمام امیدیں دھری کی دھری رہ گئیں اور جماعت پھر سے ایک ہاتھ پر جمع ہو گئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث" نے اپنے پہلے خطبہ جمعہ کے آغاز میں حضرت مصلح موعودؓ کے اُس خطبہ جمعہ کا ذکر فرمایا جو آپ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد ارشاد فرمایا تھا۔اس میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا اس وقت دشمن خوش ہے کہ احمدیوں میں اب تفرقہ پڑ گیا ہے اور یہ جلد تباہ ہو جائیں گے اور اس وقت ہمارے ساتھ زلزلو ا زلزالا شديدا والا معاملہ ہے۔یہ ایک آخری ابتلا ہے جیسا کہ احزاب کے مواقع کے بعد پھر دشمن میں یہ جرات نہ تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کرے۔ایسے ہی ہم پر یہ آخری موقع ہے اور دشمن کا حملہ ہے خدا تعالیٰ چاہے ہم کامیاب ہوں تو انشاء اللہ پھر دشمن ہم پر حملہ نہ کرے گا بلکہ ہم دشمن پر حملہ کریں گے۔نبی کریم ہے نے احزاب پر فرمایا تھا کہ اب ہم ہی دشمن پر حملہ کریں گے اور شکست دیں گے دشمن اب ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہوگا۔یہ ایک آخری ابتلا ء ہے اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے تو