سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 687 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 687

687 کی مشکلات کم کرنے اور ان کی اعانت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔(۱) اس دور میں شام کے اخبارات میں احمدیت کے متعلق مضا میں شائع ہوتے رہتے تھے۔جب حضور نے اسرائیل کے قیام پر الکفر ملتۃ واحدۃ تحریر فرمائی اور اسے شائع کیا گیا تو شام کے اخبارات نے حضور کی بیان فرمودہ تجاویز کو مستحسن قرار دیا۔اور ان تجاویز پر نوٹ شائع کئے۔مکرم منیر احصنی صاحب نے مودودی صاحب کی کتاب قادیانی مسئلہ کا عربی میں جواب المودودی فی المیز ان شائع کی۔اس سے مولویوں کی مخالفت میں اضافہ ہو گیا۔یہ کتاب مختلف ممالک کو بھجوائی گئی۔دمشق کے علماء نے حکومت کو درخواست دی کہ جماعت احمد یہ منظم ہے اور یہ چندہ جمع کرتے ہیں۔اس لئے انہیں خلاف قانون قرار دیا جائے۔اور مفتی جمہوریہ نے فتوی دیا کہ اب کوئی خلیفہ نہیں ہوسکتا اور احمدی ایک خلیفہ کی بیعت کرتے ہیں اور یہ نا جائز ہے۔اس دباؤ کے تحت شام کی حکومت نے جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلہ دے کر جماعت پر پابند یا لگا دیں۔سفر یورپ پر جاتے ہوئے ، حضور کے دمشق میں قیام کرنے کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے۔۱۹۵۶ء میں مکرم حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کچھ عرصہ کے لئے ذاتی طور پر دمشق آئے اور صدر جمہوریہ سمیت متعدد اہم شخصیات سے ملاقات کی۔۱۹۵۷ء میں اسماعیلی احباب میں تبلیغ کرنے کے سلسلے میں کچھ کام ہوا اور چند اسماعیلی احباب بیعت کر کے میں داخل ہوئے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔دمشق کی جماعت نے یہ ترجمہ الخطاب الجلیل کے نام سے شائع کیا۔جب مودودی صاحب نے شام کا دورہ کیا تو جماعت احمدیہ کے خلاف ایک منصوبہ تیار کیا گیا اور شام کی حکومت نے جماعت کے دمشق میں مرکز الزاویہ کو سر بمہر کر دیا۔اور علماء کے زیر اثر حکومت نے احمدیوں کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔شام سے کچھ مخالفین لبنان جا کر بھی احمدیوں کے خلاف فتنہ انگیزی کرتے رہے۔لیکن جماعت احمد یہ شام یہ ابتلاء بڑی ہمت سے برداشت کرتی رہی۔(۲) (۱) الفضل ۷ استمبر ۱۹۴۸ء (۲) تاریخ شام مشن مرتب کرده وکالت تبشیر ربوه