سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 650 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 650

650 لوگ بیعت کر کے میں داخل ہو رہے تھے اور اس طرح وہاں کا مشن مستحکم ہو رہا تھا۔۱۹۵۱ء میں حضور کی تصنیف احمدیت یا حقیقی اسلام کا تیسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ایک انگریزی مجلہ احمد یہ گزٹ بھی شائع ہو رہا تھا جس میں جماعت احمدیہ کی عالمی خبریں شائع ہوتی تھیں۔(۷) ڈیٹن کے ایک مخلص احمدی مکرم ولی کریم صاحب اور آپ کی اہلیہ لطیفہ کریم صاحبہ نے ستمبر ۱۹۴۹ء میں ایک قطعہ زمین مسجد کے لئے بطور ہدیہ دیا تھا۔اس میں جماعت نے تہہ خانے سے تعمیر کا کام شروع کیا تھا۔چند سالوں میں ایک ہال ، ایک بارچی خانہ اور غسلخانے تیار ہو گئے۔اس پر مسجد بعد میں تیار ہوئی۔۱۹۵۴ء میں مکرم مولوی نوارالحق صاحب انور اور سید جواد علی صاحب بطور مبلغ امریکہ پہنچے اور مکرم مولوی نورالحق صاحب نے نیو یارک مشن میں کام شروع کیا۔اور مکرم سید جواد علی صاحب نے واشنگٹن شکا گواور سینٹ لوئیس میں خدمت کی توفیق پائی۔(۸) مکرم مولا نا نور الحق صاحب انور نے ایک رپورٹ میں بنگالیوں میں تبلیغ کے متعلق عرض کی تو اس پر حضور نے فرمایا بنگالیوں کی طرف توجہ تو کریں لیکن آپ امریکہ میں امریکنوں کو تبلیغ کرنے کے لئے گئے ہیں۔اس لئے کام کی وجہ سے امریکن لوگ خالی نہ رہ جائیں ، اس کام کو ضمنی ہی سمجھیں اصل توجہ امریکنوں کی طرف ہو۔(۹) - حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت جماعت میں نظامِ وصیت جاری فرمایا تھا اور اس میں جماعت کے لئے بہت سی برکات رکھی گئی ہیں۔مکرم مولانا نورالحق صاحب انور نے یکم فروری ۱۹۵۶ء کوتحریر کیا کہ رسالہ الوصیت شائع کیا گیا ہے۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا دمیں امید کرتا ہوں کہ کیونکہ الوصیت حضرت مسیح موعود نے آسمانی تحریک کے ذریعہ جاری کی تھی اس لئے امید ہے جلد پھیل جائے گی اور ہمیں مقبرہ بنانے کی توفیق مل جائے گی (۱۰) مکرم مولا نا نو رالحق صاحب انور کی ۶ اپریل ۱۹۵۶ء کی رپورٹ پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا