سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 645 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 645

645 تعمیر کیا گیا۔(۲۹) مخالفت کی آگ کہیں نہ کہیں سلگتی ہی رہتی تھی۔ٹانگا نیکا میں لنڈی کے علاقہ میں ایک گاؤں میں احمد یوں کو اتنے مظالم کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے گاؤں سے باہر جنگل میں رہائش اختیار کر لی اور اس نئے گاؤں کا نام قادیان رکھ لیا۔حضور کو اطلاع ملی تو آپ نے اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔(۳۰) یوگنڈا میں اب تک کوئی مشن ہاؤس یا بڑی مسجد نہیں بنی تھی۔یہاں کی جماعتوں میں سے جنجہ کی جماعت نسبتاً بڑی تھی۔۲۷ جولائی کو مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے ججہ میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔اس وقت مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب حجہ مشن کے انچارج تھے۔(۳۱) اس کے اگلے ماہ ہی 9 اگست ۱۹۵۷ء کو یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالہ میں بھی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔(۳۲) دس مئی ۱۹۵۹ء کو جنجہ کی مسجد کا افتتاح عمل میں آیا۔اس مسجد کی تعمیر میں مکرم بشیر الدین عبید اللہ صاحب اور بھائی محمد حسین صاحب نے نمایاں خدمات سر انجام دی تھیں۔اس لئے امیر مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے افتتاح کی رسم مکرم بشیر الدین عبید اللہ صاحب کے ہاتھ سے کروائی۔اس موقع پر حضور کا پیغام بھی پڑھا گیا۔جس میں حضور نے اس مسجد کی تعمیر پر اظہار خوشی فرمایا اور ایک سکھ ٹھیکیدار مکرم سردار اندرسنگھ گل صاحب کا ذکر فرمایا جنہوں نے اس مسجد کی تعمیر میں بہت سا حصہ لیا تھا۔(۳۳) ۱۹۵۷ء میں یوگنڈا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان لوگینڈا میں جماعت کا ایک ماہوار رسالہ جاری ہوا ، جس کا نام Dobozi ly Obolslam یعنی اسلام کی آواز رکھا گیا۔یہ رسالہ کچھ عرصہ جاری رہ کر پھر بند ہو گیا۔(۳۴) ۱۹۶۱ء میں مشرقی افریقہ کے ممالک یوگنڈا ، کینیا اور تنزانیہ آزاد ہو کر علیحدہ علیحدہ ممالک کی حیثیت سے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوئے۔اور اس کے ساتھ ہی جماعت نے بھی مشرقی افریقہ میں اپنے مشن کو انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم کر دیا اور یہاں پر جماعت کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔