سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 605 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 605

605 ۱۹۴۰ء اور ۱۹۶۵ء کے درمیان جماعت کے مشنوں کی تاریخ ہم ۱۹۳۹ء کا ذکر کرتے ہوئے یہ ذکر کر چکے ہیں کہ اُس وقت برصغیر سے باہر کن ممالک میں جماعت کی تبلیغی کوششیں جاری تھیں۔اور اُس کے بعد جن ممالک میں نئی جماعتیں قائم ہوئیں اس کا ذکر بھی کیا جا چکا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۴۰ ء اور ۱۹۶۵ء کے درمیان ،خلافت ثانیہ کے اس دور میں دنیا کے مختلف ممالک میں جماعت کس طرح ترقی کے مراحل طے کر رہی تھی۔دنیا کے مختلف خطوں میں جہاں پر احمدی مبلغین اسلام کی تبلیغ کے لئے کوشاں تھے، مغربی افریقہ کا خطہ ایک ایسا خطہ تھا جہاں کے لوگوں نے سب سے زیادہ خدا کے مامور کی آواز پر لبیک کہنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ہم مغربی افریقہ کے ممالک سے ہی شروع کرتے ہیں۔سیرالیون: آج کل میں سیرالیون کے اندرونی علاقے میں، گورا ما(Gorama) چیفڈم کے صدر مقام Tungie میں کام کر رہا ہوں۔یہ جگہ قریب ترین ڈاکخانے سے ۵۰ میل کے فاصلے پر اور پکی سڑک سے چھپیس میل کے فاصلے پر ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیراماؤنٹ چیف احمدی ہو گیا ہے اور میں گذشتہ تین ہفتوں سے اُس کے گھر میں ٹھہرا ہوا ہوں۔اُس نے ایک مسجد کی تعمیر شروع کرادی ہے۔پہلے وہ عیسائی تھا۔خدا ہماری مدد کرے، ممکن ہے کہ اُس کے چیفڈم میں بہت سے لوگ حق کو قبول کر لیں گے۔“ یہ مکرم مولانا نذیر احمد صاحب علی کی رپورٹ کا ایک حصہ ہے جو ۲۰ جنوری ۱۹۴۰ء کے سن رائز میں شائع ہوئی۔سیرالیون میں تبلیغی مساعی کئی اور ممالک کی نسبت بہت بعد میں شروع ہوئیں مگر یہاں کے مبلغین کی کمال جانفشانی سے دور دراز کے علاقوں کے دورے کئے ، وہاں جا کر ایک لمبا عرصہ ٹھہرے اور لوگوں تک حقیقی اسلام کا پیغام پہنچایا۔اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو قبول فرمایا اور