سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 570 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 570

570 فنجی میں مشن کا قیام نجی جنوبی بحرالکاہل میں واقع چھوٹے چھوٹے جزائر کا مجموعہ ہے۔اس ملک میں کئی قومیتوں کے لوگ آباد ہیں۔ان میں سب سے زیادہ تعداد ہندوستانی باشندوں اور یہاں کے مقامی لوگوں کی ہے۔یہاں کی آبادی میں عیسائی سب سے زیادہ ہیں اور ان کے بعد ہندومت سے وابستہ لوگ یہاں زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔مسلمانوں آبادی کا تقریباً سات فیصد ہیں۔جب ہندوستان میں شدھی کی تحریک چلی تو اس کا اثر فجی بھی پہنچا اور ان کی طرف سے یہ کوششیں شروع کی گئیں کہ کمزور مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔فیجی میں سب سے پہلے احمدیت کا تعارف ایک احمدی مکرم چوہدری عبد الحکیم صاحب کے ذریعہ پہنچا جو ۱۹۲۵ء میں کاروبار کے سلسلے میں فجی منتقل ہوئے۔انہوں نے یہاں پر نادی کے مقام پر قیام کیا اور مرکز کے ساتھ رابطہ رکھنے کے علاوہ کچھ جماعتی لٹریچر منگوا کر اپنے واقف کاروں میں تقسیم کیا۔لیکن اس وقت یہاں پر باقاعدہ جماعت کا قیام عمل میں نہیں آسکا۔مگر یہاں کے کچھ باشندے پیغامیوں کی انجمن اشاعت اسلام کے ساتھ وابستہ تھے۔جب یہاں پر شدھی کی تحریک چلائی گئی تو ان کی طرف سے اس تحریک کا مقابلہ کیا گیا۔مگر ان میں سے بعض نے یہ محسوس کیا کہ انہیں دانستہ طور پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی کتب مہیا نہیں کی جاتیں۔جب ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ کتب دستیاب ہوئیں تو ان پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ آپ کا دعویٰ صرف مجدد ہونے کا نہیں بلکہ امتی نبی کا بھی تھا۔ان میں سے ایک صاحب مکرم محمد رمضان صاحب حج کرنے کے بعد تلاشِ حق کے لئے ۱۹۵۹ء میں ربوہ آئے اور بیعت کر کے جماعت احمد یہ مبایعین میں شامل ہو گئے اور حضرت مصلح موعودؓ سے درخواست کی کہ نجی کوئی مبلغ بھجوایا جائے۔اور نجی آکر تبلیغ کا فریضہ ادا کرنا شروع کیا۔ان کی کاوشوں سے کچھ احباب بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔یہاں پر جماعت کے پہلے مبلغ مکرم شیخ عبدالواحد صاحب اار اکتوبر ۱۹۶۰ء کو نجی پہنچے اور ابتداء میں آپ کا قیام مکرم محمد رمضان صاحب کے ہاں رہا۔آپ سب سے پہلے نادی کی جماعت کی تنظیم