سلسلہ احمدیہ — Page 554
554 تفسیر صغیر کی اشاعت قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے جو مسلمانوں کو عطا کی گئی ہے۔اس سے فائدہ اُٹھانے اور اس پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اس کو پڑھے اور اس پر عمل کرے۔لیکن اکثریت اتنی علمی استعداد نہیں رکھتی کہ عربی زبان میں پڑھ کر اس کو سمجھ سکے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ دنیا کی مختلف زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ موجود ہو۔لیکن قرآن کریم کا ترجمہ کرنا ایک نازک امر ہے۔اس کے لئے نہ صرف عربی اور جس زبان میں ترجمہ ہورہا ہو اس زبان کی اعلی علمی صلاحیتیں درکار ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ترجمہ کرنے والے کو قرآنی معارف سے بھی حصہ ملا ہو۔ورنہ جو غلطی دنیاوی نظر میں معمولی غلطی دکھائی دیتی ہے وہ قرآنی تعلیمات کو غلط رنگ میں پیش کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔اور قرآنِ کریم کے منشا کے برخلاف نظریات ترجمہ کے نام پر دنیا کے سامنے پیش کئے جا سکتے ہیں۔حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے بعد یہ ضروری تھا کہ آپ کے بیان کردہ آسمانی معارف کی روشنی میں قرآن کریم کے صحیح تراجم دنیا کے سامنے پیش کئے جائیں۔چنانچہ تفسیر صغیر کی اشاعت سے قبل حضرت میر محمد الحق صاحب کا کیا ہوا ترجمہ شائع ہو چکا تھا۔حضرت پیر منظور محمد صاحب قرآنِ کریم کی کتابت کے بہت بڑے ماہر تھے۔آپ نے قرآنِ کریم کی کتابت کا ایسا انداز اختیار کیا تھا جس کو ہر شخص بڑی آسانی سے پڑھ سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ایسا ملکہ ودیعت ہوا تھا کہ آپ نے بچوں کے لئے ایک قاعدہ، قاعدہ میسرنا القران کے نام سے تصنیف فرمایا۔اسے ایسے انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ اسے پڑھ کر بچے آسانی سے قرآنِ کریم شروع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے خود اس قاعدے کی تعریف فرمائی ہے۔یہ قاعدہ جلد ہی پورے ہندوستان میں مقبول ہو گیا اور اس کی اشاعت سے لاکھوں روپے کی آمد شروع ہوگئی۔حضرت پیر منظور محمد صاحب ایک بے نفس بزرگ تھے انہوں نے ۱۹۳۸ء میں اس قاعدے کی آمد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو ہبہ کردی۔یہ ہبہ کرتے ہوئے انہوں نے حضور کو تحریک