سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 544 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 544

544 میں جماعت اپنا مشن کھولے۔یہ نوجوان اسلام سے متاثر ہوکر مسلمان ہو چکے تھے اور انجمن اسلامی کے سیکریٹری تھے (۱)۔اس سے قبل ۱۹۲۰ء میں جب مکرم نیر صاحب لندن میں قیام فرما تھے تو ناروے کی ایک خاتون نے نیر صاحب کے ذریعہ بیعت کر کے احمدیت قبول کی تھی۔چنانچہ حضور نے سکینڈے نیویا میں مشن کھولنے کے لئے مکرم کمال یوسف صاحب کو مقررفرمایا۔ایک مرتبہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نماز عصر کے بعد مجلس عرفان میں تشریف فرما تھے۔مکرم کمال یوسف صاحب بھی مجلس میں حاضر تھے حضور نے کمال یوسف صاحب کو ارشاد فرمایا کہ فن لینڈ میں ایک مدت سے ترک آباد ہیں وہاں جا کر ان سے بھی ملنا چاہئیے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب آئینہ کمالاتِ اسلام اور حقیقۃ الوحی اور بعض دیگر کتب کا مطالعہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔(۲) اُس وقت مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب مغربی جرمنی میں جماعت کے مبلغ تھے ، حضور نے انہیں ہدایت فرمائی کہ وہ بھی کمال یوسف صاحب کے ساتھ جائیں۔چنانچہ یہ دونوں احباب ۱۴ جون ۱۹۵۶ء کو سویڈن کے شہر گوٹن برگ میں وارد ہوئے۔سویڈن ایک خوبصورت ملک ہے۔اس کی جھیلیں اور خوبصورت مناظر دیکھتے ہوئے بے اختیار چوہدری عبد اللطیف صاحب کے دل سے دعا نکلی کہ اے خدا جس طرح تو نے اس سرزمین کو ظاہری حسن کے زیور سے آراستہ کیا ہے اسی طرح اس ملک کے بسنے والوں کے قلوب کو اپنے نور کی کرنوں سے روشن کر دے۔گوٹن برگ میں ایک کمرہ کرایہ پر حاصل کر کے تبلیغ کے کام کا آغاز کیا گیا۔گوٹن برگ کے ایک روز نامہ gotibors_Posten نے ۲۲ جون کی اشاعت میں مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب کا انٹرویو شائع کیا (۳)۔مسٹر ایرکسن جنہوں نے لندن میں حضور سے سویڈن میں جماعت احمدیہ کا مشن کھولنے کی درخواست کی تھی، یہاں پر سب سے پہلے بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔اُنہوں نے اگست ۱۹۵۶ء میں بیعت کی۔مکرم کمال یوسف صاحب نے زبان سیکھنے کے لئے رات کی کلاسز میں داخلہ لیا۔اور اس کے ساتھ تبلیغ کا کام بھی جاری رکھا۔مختلف مذہبی اور دیگر تنظیموں نے مکرم کمال یوسف صاحب کو لیکچروں پر بلانا شروع کیا اور اخبارات اور رسائل نے انٹرویو لینے شروع کئے۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کا یہ راستہ خود بخود نکل آیا۔ڈنمارک کے مکرم عبدالسلام میڈسن صاحب اور اس خطے میں پہلے پہل بیعت کرنے والے احمدیوں سے بعض اس سے