سلسلہ احمدیہ — Page 543
543 ہمراہ بہائیت کی تبلیغ کے لئے لائیبیر یا آیا۔اور اپنے مذہب کی پر جوش تبلیغ شروع کی۔صوفی صاحب نے اس سے تبادلہ خیالات کیا تو آخر دلائل سے تنگ آکر اس کی بیوی نے کہا کہ اب میں تمہارے کہنے سے انیس برس کے بعد بہائیت تو نہیں چھوڑ سکتی۔حضور کو اس کی رپورٹ پہنچی تو حضور نے تحریر فرمایا کہ ان سے کہو کہ تم انیس سال بعد بہائیت نہیں چھوڑ سکتی تو ہم ساڑھے تیرہ سوسال بعد اسلام کیسے چھوڑ دیں۔(۸،۷)۔حضور کی خواہش ہوتی تھی کہ جماعت کے مبلغین جب بھی تبلیغ کریں تو مضبوط اعلم اور قوی دلائل کے ساتھ کریں۔چنانچہ جب بہائیوں میں صوفی صاحب کی تبلیغی مساعی کی رپورٹیں حضور تک پہنچیں تو حضور نے ان میں تبلیغ کی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا ، دیگر بہائیت کا مطالعہ پہلے کرلیں۔تبشیر مولوی ابو العطاء صاحب والی بہائیت کے متعلق دونوں کتب ان کو بھجوا دیں۔(۹) اس طرح لائی پیر یا میں جماعت کا قیام عمل میں آیا اور ایک مختصر جماعت کے ذریعہ اس ملک میں تبلیغ کا آغاز ہوا۔(1) تاریخ احمدیت ، جلد ۱۸ ص ۳۲۹ (۲) الفضل ۵ مئی ۱۹۲۱ ء ص ۱ (۳) الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۴۳ء ص ۴ (۴) روح پرور یادیں، مصنفہ صدیق امرتسری صاحب ، ص ۴۰۶-۴۰۹ (۵) الفضل ۹ دسمبر ۱۹۵۵ ء ص ۶ (۶) الفضل ۱۰ اپریل ۱۹۵۶ء ص ۳ ( ۷ ) الفضل ۲ ستمبر ، ۱۹۵۷ء ص ۳ و۴ (۸) ریکارڈ وکالت تبشیر ربوہ (۹) الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۵۷ء ص ۴۱۳ سکینڈے نیویا میں مشن کا قیام: سکینڈے نیویا یورپ کا وہ حصہ ہے جس میں سویڈن، ڈنمارک اور ناروے کے ممالک شامل ہوتے ہیں۔جب حضور یورپ کے دورے پر تشریف لے گئے تو ایک سویڈش نوجوان مسٹر گنار ایرکسن ( Gunnar Ericsson) نے حضور سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ سکینڈے نیویا