سلسلہ احمدیہ — Page 528
528 ان کے اس بیان کے بعد کسی بحث و تمحیص کی گنجائش نہیں رہتی۔ان کے متعلق تو نظام جماعت کی طرف سے یہی کاروائی ہوئی تھی کہ ان کے متعلق یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ان کا اب جماعت احمد یہ مبایعین سے کوئی تعلق نہیں۔اگر انہوں نے کبھی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو خلیفہ راشد ہی تسلیم نہیں کیا تھا تو پھر یہ اعلان بالکل بر حق اور ان کے نظریات کے مطابق تھا۔انہیں کسی قسم کے شکوے کی بجائے اس پر خوش ہونا چاہئیے تھا۔اور لازماً ایسا شخص جو جماعت احمد یہ مبایعین کے مذہبی نظریات سے ہی متفق نہ ہو ، اُن کی مذہبی تنظیم کا عہد یدار نہیں ہو سکتا۔ان کے اعتراف سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ ان پر لگائے جانے والے الزامات بالکل درست تھے اور وہ جو اتنا عرصہ گاہے بگا ہے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی سے اظہار عقیدت کرتے رہے تھے، یہ سوائے ملمع سازی کے کچھ نہ تھا۔تقریباً ایک سال قبل مولوی عبدالمنان صاحب اور ان کی اہلیہ کا کیا ہوا انگریزی ترجمہ قرآن شائع ہوا۔اس کے پیش لفظ میں حضرت خلیفہ اسی الاول کے حالات زندگی بھی درج تھے۔اور ان حالات زندگی میں حضرت خلیفہ اسی الاول کے جموں تک جانے کا ذکر تو تھا مگر نہ قادیان آنے یا قادیان ہجرت کرنے کا ذکر کیا گیا تھا اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کرنے کا کوئی ذکر کرنے کی زحمت کی گئی تھی۔یه گروہ صداقت کا خون کس آسانی سے کر سکتا تھا، اس کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔اس دیدہ دلیری سے حضرت خلیفہ مسیح الاول کی مبارک سوانح سے وہ حصہ حذف کیا گیا ہے جو ان کی زندگی کا اہم ترین حصہ تھا۔اس پر سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے۔(۱) مسند امام احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۴۰۳، مطبوعہ المكتب الاسلامي للطباعة والنشر بيروت (۲) ترمذی کتاب العلم باب الاخذ بالسنته (۳) سیرت حضرت عثمان مصنف محمود احمد ظفر ص ۵۹۴ تا ۶۱۲ (۴) مسند احمد بن حنبل، مسند حضرت عبد اللہ بن عمر ، حدیث نمبر ۵۷۳۹،۵۵۱، صحیح بخاری، فضائل اصحاب النبی ماه (۵) تذکرہ ص ۱۷۹ ایڈیشن چہارم (۶) الفضل ۳۰ جولائی ۱۹۵۶ء ص ۱ ( ۷ ) الفضل ۱۲۴ پریل ۱۹۵۶ء ص ۳ (۸) الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۵۶ ء ص ۴۲ (۹) الفضل ۴ اگست ۱۹۳۷ء ص ۴ (۱۰) الفضل ۲۸ جولائی ۱۹۵۶ء ص ۵ (۱۱) ماہنامہ، خالد دسمبر ۱۹۶۴ء ص ۱۶۸ (۱۲) یہ روایت خاکسار نے خود ماسٹر ابراہیم صاحب سے سنی ہے (۱۳) نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر، الناشر الشركة الاسلامیہ، ص۵۳۵۲ (۱۴) نظام آسمانی کی مخالفت اور اس کا پس منظر، ناشر الشرکۃ الاسلامیہ، ص ۱۱۷ (۱۵) الفضل ۱۶ جون ۱۹۵۶ء ص او ۸