سلسلہ احمدیہ — Page 512
512 روحانی فضیلت کی بنا پر نوجوان نسل میں بہت مقبول ہو گئے ہیں۔دوسری طرف مخالفین محسوس کرتے ہیں کہ مرزا ناصر احمد کو غیر رسمی طور پر جماعت کو چلانے کے اختیارات دیئے جا رہے ہیں۔انہیں انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کا صدر مقرر کر دیا گیا ہے۔(۴۲) روزنامہ نوائے وقت نے اداریہ لکھا کہ احمدیوں نے جن کے خلاف منافقت کا الزام لگایا ہے اُن کا سوشل بائیکاٹ کر کے ان پر ظلم کیا ہے۔پھر مرزا صاحب احمدیوں کے سوشل بائیکاٹ کی کس منہ سے شکایت کرتے ہیں۔(۴۳)۔اور نوائے پاکستان نے بھی یہی الزام لگاتے ہوئے لکھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے حکم پر مولوی عبدالوہاب صاحب کا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا ہے تا کہ انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے (۴۴)۔یہ ویسے ہی مضحکہ خیز الزام تھا۔اُس وقت تک جن مفسدین کے نام سامنے آ رہے تھے، وہ لا ہور اور دیگر ایسے شہروں میں رہ رہے تھے جہاں پر احمدیوں کی تعداد دو تین فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔خود مولوی عبدالوہاب صاحب لاہور میں رہائش پذیر تھے۔احمدیوں کے لئے کسی طرح یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ ان کا ایسا بائیکاٹ کریں کہ یہ لوگ بنیادی حقوق سے ہی محروم ہو جائیں۔بلکہ ایسے شہر میں جہاں احمدی صرف دو تین فیصد ہوں وہاں پر اُن کی طرف سے کسی قسم کے بائیکاٹ کی مہم چلانا ایک بے معنی بات تھی۔لیکن ایسی صورت میں جب مفسدین اس قسم کے الزام لگا رہے تھے کہ جس میں آپس کے میل ملاپ سے اشتعال پیدا ہونے کا اندیشہ تھا تو اگر احمدیوں نے ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تو اس پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔مخالفین اس فتنہ سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔اور بہت سے اخبارات اور رسائل اپنے بچگانہ جوش کا اظہار کر رہے تھے۔ہفت روزہ المنیر نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بظاہر اس امر کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ ان کے جانشین خواہ مرزا ناصر ہوں یا ظفر اللہ یا عبدالمنان ہوں یا کوئی دوسری شخصیت قادیانی جماعت کا اسپر متحد ہونا اور منظم رہ کر جوں کا توں پاکستان میں ربوہ کی ریاست کو قائم رکھنا اور بیرونِ پاکستان اپنے کام کو وسیع کرتے چلے جانے کا سلسلہ حسب سابق باقی رہے سوائے اس کے کہ قادیانیوں کی مخالفت کرنے والی بعض جماعتیں حسب سابق ایسی حماقتوں اور غلط کاریوں کو نہ اپنائیں جو قادیانیوں کو منتظم ہونے پر مجبور کر دیں۔(۴۵)