سلسلہ احمدیہ — Page 511
511 'مرزا صاحب اس خلفشار کو چند شریر آدمیوں کے سر منڈھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن حقائق کچھ اور ہیں۔اللہ رکھا، عبد المنان عمر اور چند ایک طالب علم صرف اس بغاوت کے حقیقی کردار نہیں ہیں۔یہ خلفشار ایک ذہنی انقلاب کی تمہید ہے۔یہ بات صرف یہاں تک محدود نہیں ہے کہ قادیانی قوم کے کچھ افراد مرزا صاحب کو خلافت سے اس لئے اتارنا چاہتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں۔یا ان کی ذہنی صحت اور جسمانی قومی جواب دے چکے ہیں۔۔یہ صرف تخت کے وارثوں کا جھگڑا نہیں ہے جولوگ اب تک ان کو آنکھیں بند کر کے نعوذ باللہ نبی ولی مہدی ملہم اور امیر المومنین سمجھتے تھے۔ان کی آنکھوں سے پٹیاں کھل رہی ہیں۔وہ محسوس کر رہے ہیں کہ زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔جس تقدس ، الہام، نبوت علم کلام اور سلسلہ اوھام وخرافات کو وہ حقیقت اور دین سمجھ بیٹھے تھے وہ دکان داری اور دھو کہ ہے اور ایک شخص اپنی چالا کی اور ہوشیاری سے انہیں اب تک بیوقوف بنا تا رہا ہے۔۔ہمارے نزدیک اب اس مذہب کو تاریخی قوتوں کے حوالے کر دینا چاہئیے۔وہ خود ہی اس سے نبٹ لیں گی۔(۴۱) تاریخ نے کیا شہادت دی؟ اس اداریہ کے بعد جماعت نے ترقی کی یا تنزل کا شکار ہوئی۔ان سوالات کے جواب میں کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔مخالفین کی عادت ہے کہ ہر کچھ سالوں کے بعد انہیں جماعت کی تباہی کے خواب آنے شروع ہو جاتے ہیں اور جلد ہی ان کی خوش فہمیاں دم تو ڑ دیتی ہیں۔اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔کوہستان کی خام خیالی جلد ہی دم تو ڑ گئی۔یہ اخبار بند ہو کر ماضی کا قصہ بن گیا مگر جماعت احمد یہ پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرتی رہی۔پاکستان ٹائمنز نے خبر لگائی کہ چالیس سال کے بعد ایک بار پھر جماعت احمدیہ میں خلافت کے مسئلہ پر تفرقہ پڑ گیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی ایسے شخص کو لیڈر بنایا گیا جس کی پوری جماعت عزت نہیں کرتی تو جماعت پھر تقسیم ہو جائے گی۔اور لکھا کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے بار باخطبات میں متنبہ کیا ہے کہ تفرقہ پیدا کرنے والوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی نگرانی کریں۔عبدالمنان عمر کو ان حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم اور