سلسلہ احمدیہ — Page 510
510 دعاؤں کے لئے تلقین فرمائی اور تحریر فرمایا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا فتنہ ہے اور ایک ادنی درجہ کا ذلیل آدمی اس کا پراپیگنڈا کر رہا ہے۔اس کے خلاف حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے کو اس شد و مد سے مخالفت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔فتنے ہمیشہ ابتداء چھوٹے ہوا کرتے ہیں اور اگر وقت پر ان کو نہ سنبھالا جائے تو اتنے پھیل جاتے ہیں کہ پھر کسی انسان کے کے بس کی بات نہیں رہتی۔۔۔کسی فتنہ کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہئیے خصوصاً جبکہ مرکز اس کو اہمیت دیتا ہو۔کیونکہ مرکز میں ایسے حالات پہنچتے ہیں جن کا عام جماعت کو پتہ بھی نہیں ہوتا۔اس لئے میں پھر آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس فتنہ کو چھوٹا نہ سمجھیں بلکہ بہت بڑا فتنہ سمجھیں۔یہ صرف اللہ رکھا کی کاروائی نہیں ہے۔بلکہ اس کے پیچھے ایک گروہ ہے۔اگر چہ خدا تعالیٰ کے فضل سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ منافق جو اپنے آپ کو ہماری جماعت سے منسوب کرتے ہیں۔ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔مگر باہر سے مدد کرنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔(۳۸) بیرونی مددگاروں میں سے کچھ سامنے آتے ہیں: زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی بات بالکل صحیح ثابت ہوگئی۔منافقین کی پشت پناہی کرنے والا گروہ کھل کر ان کی مدد کو آ گیا۔اگست کے آخر اور ستمبر کے شروع میں بہت سے ملکی اخبارات اس فتنہ کی اعانت کھل کر کرنے لگے۔اخبار کو ہستان خاص طور پر ان مفسدین کی اعانت کر رہا تھا اور عملاً یہ صورت حال تھی کہ ہر دوسرے دن اس میں اس فتنہ کے متعلق کوئی نہ کوئی شرانگیز خبر شائع ہوتی تھی۔عملاً یہ اخبار مفسدین کے ترجمان کا کردار ادا کر رہا تھا۔اور ان کے بیانات اور خطوط کو بڑے اہتمام سے شائع کرتا تھا اور ان پر ہونے والے فرضی مظالم کی خبر بنا کر اس کو شائع کرتا ، پھر اس کی مذمت اس خبر کے ساتھ شائع کی جاتی (۴۰،۳۹)۔کوہستان نے ایک طویل ادار یہ لکھا اور اس میں عبد المنان صاحب عمر اور اللہ رکھا صاحب کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش بھی کی۔اس اداریے میں لکھا