سلسلہ احمدیہ — Page 493
493 آپ کی وفات پر اس طبقہ نے خلافت کو غیر ضروری قرار دے کر اس نعمت سے کلیتاً انحراف کرلیا تھا۔اس کے بعد بھی بعض فتنے خلافت حقہ کے خلاف بڑے بڑے دعووں کے ساتھ سر اُٹھاتے رہے۔مگر خدا تعالیٰ انہیں نا کام کرتا رہا۔ہم ان میں سے ایک فتنے کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیں گے۔کیونکہ ان فتنوں کی ایک خاص طرز ہے۔الہی جماعتوں کی مخالفت ،الہی جماعتوں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے۔اور بیرونی اشاروں کے ایماء پر پیدا کئے گئے یہ فتنے تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔اور ان سے کئی اہم سبق حاصل کئے جاسکتے ہیں۔تاریخ کے اس عمل کو سمجھنے کے لئے ہم ۱۹۵۶ء میں سر اُٹھانے والے فتنے کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیں گے۔اگر چہ یہ فتنہ ابتدائی مرحلے میں ہی مکمل طور پر ناکام بنا دیا گیا لیکن فتنوں کی طرز کو سمجھنے کے لئے ایک فتنہ کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔اگر تاریخی حقائق کا موازنہ کیا جائے تو با وجود اس فرق کے کہ حضرت عثمان کے زمانے میں حکومت مسلمانوں کے قبضہ میں تھی اور اس دور میں جماعت احمد یہ حضرت عیسی کے متبعین کی طرح ایک غریب جماعت تھی جسے کسی قسم کا اقتدار حاصل نہیں تھا، یہ فتنہ اس فتنہ سے گہری مماثلت رکھتا تھا جو حضرت عثمان کے زمانے میں برپا کیا گیا تھا۔جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس فتنہ کے دوران جماعت کے نام اپنے ایک پیغام میں فرمایا تھا، اس فتنہ کے بانی اچھی طرح حضرت عثمان کے قاتلوں کی سکیم کا مطالعہ کر رہے ہیں۔اور ان کی سکیم پر چلنا چاہتے ہیں۔(1) بعد میں جوں جوں حالات واضح ہوتے گئے اس ارشاد کی سچائی کھل کر سامنے آگئی۔یہ فتنہ اُس وقت شروع ہو ا جب ۱۹۵۳ء میں جماعت کو بیرونی حملوں کے ذریعہ سے ختم کرنے کی سازش ناکام ہو چکی تھی اور حضرت مصلح موعود پر قاتلانہ حملہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناکام ہو گیا تھا۔اس سازش میں بہت سے گروہ شریک تھے جو کم از کم آغاز میں ایک دوسرے سے لاتعلق دکھائی دیتے تھے مگر بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ سب ایک ہاتھ کے اشاروں پر حرکت کر رہے تھے۔ان کا ایک حصہ تو مرکز میں بیٹھا ہوا تھا۔اور بعض پبلک مقامات پر بیٹھ کر حضرت مصلح موعود پر اعتراضات کرتا تھا۔ان کے بظاہر سادہ اور کم عقل دکھائی دینے والے کارندے مختلف شہروں کے دورے کرتے اور یہ ذکر چھیڑتے کہ حضرت مصلح موعودؓ کے بعد کون خلیفہ ہوگا اور پھر خود ہی کہتے کہ