سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 487 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 487

487 ایک شخص نے عرض کی کہ یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا۔پس تم پر میری اور ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی کرنا فرض ہے۔(۲) نظام خلافت کے خلاف فتنوں کا تاریخی پس منظر: یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب اسلام کے دشمن بیرونی حملوں کے ذریعہ سے اسلام کو مٹانے اور نقصان پہنچانے میں ناکام ہو گئے تو پھر سازشوں کے ذریعہ اندرونی فتنے پیدا کئے گئے اور ان فتنوں کا نشانہ نظام خلافت تھا۔حضرت عثمان کی خلافت کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں کی حکومت کا دائرہ تیزی سے پھیلتا گیا۔فارس کا باقی ماندہ حصہ فتح ہو گیا، افریقہ کے بہت سے حصے فتح ہوئے اور آرمینیا بھی مسلمانوں کے زیر نگین آ گیا۔اُس دور میں مسلمانوں کے دشمن میدانِ جنگ میں مسلمانوں پر غالب نہیں آسکتے تھے۔اب مخالفین نے سازشوں کا جال پھیلا کر خلیفہ وقت کی شخصیت کونشانہ بنایا۔ابتدائی زمانہ میں فتنہ برپا کرنے والوں کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ بعد میں پیدا ہونے والے فتنہ پروروں نے باوجود بالکل مختلف حالات اور زمانے کے بہت سے بنیادی امور میں انہی کی پیروی کی۔اس لئے ہم حضرت عثمان کے دور کے تاریخی حقائق کا مختصر جائزہ لیں گے۔ان سازشوں کا بانی مبانی ایک یہودی عبداللہ بن سبا تھا جس نے بظاہر اسلام قبول کر لیا مگر روز اول سے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے اور لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف بھڑ کانے میں مشغول تھا۔اس کے ایجنٹ مسلمانوں کے اہم شہروں میں جا کر پہلے تو عمومی وعظ ونصیحت کرتے اور پھر جب اُن کا ایک حلقہ اثر بن جاتا تو ان میں وسوسے پھیلانا شروع کرتے۔پہلے انہوں نے حضرت عثمان کے مقرر کردہ گورنروں کے خلاف لوگوں کو اکسانا شروع کیا اور مختلف علاقوں میں جا کر افواہیں پھیلائیں کہ دوسرے مقامات پر گورنر بہت مظالم کر رہے ہیں۔اور مختلف شہروں کی طرف خطوط لکھنے شروع کر دیئے ، جن میں گورنروں کے فرضی مظالم کا ذکر ہوتا تھا۔جب حضرت عثمان نے صحابہ سے تحقیقات کرائیں تو یہ الزامات جھوٹے ثابت ہوئے۔مگر جب مسلسل پروپیگنڈا سے ایک طبقہ بھیٹر چال میں آکر گورنروں کے خلاف ہو گیا اور بہت سے لوگوں نے بھولپن میں ان الزامات کی