سلسلہ احمدیہ — Page 486
486 ایک فتنہ کی ناکامی خلافت راشدہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم انعام ہے۔اس کے ذریعہ دین کو تمنت عطا کی جاتی ہے اور مومنوں کی خوف کی حالت امن میں بدل دی جاتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (النور: (٥٦) یعنی تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اُن سے اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا ضرور تمكنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔اور جو اُس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نا فرمان ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں فتنوں کا دور آئے گا اور یہ راہنمائی بھی فرما دی تھی کہ اس دور میں مومنوں کا کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئیے۔حضرت حذیفہ آنحضرت ﷺ سے آنے والے فتنوں کی بابت سوال کیا کرتے تھے۔آپ نے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ان اچھے دنوں کے بعد بھی پہلے کی طرح برے دن آئیں گے آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر اس کی علامات بیان فرمانے کی بعد آپ نے فرمایا کہ گمراہی کی طرف بلانے والے لوگ کھڑے ہوں گے ایسے حالات میں اگر تم اللہ کا کوئی خلیفہ دیکھو تو اس سے چھٹے رہوا گر چہ اس وجہ سے تمہارا جسم لہولہان کر دیا جائے اور تمہارا مال لوٹ لیا جائے۔(۱)۔ایک مرتبہ الله آنحضرت ﷺ نے مسجد میں ایسا وعظ فرمایا جس کو سن کر لوگ رونے لگے اور اُن کے دل ڈر گئے۔