سلسلہ احمدیہ — Page 470
470 خان صاحب کے ہمراہ ان سے ملاقات کے لئے گئے اور ان کی صحت کے لئے دعا کی۔غلام محمد صاحب نے اس پر حضور کا شکریہ ادا کیا۔۳۰ مئی کو حضرت مصلح موعودؓ نے جنیوا میں ایک مشہور ہو میو پیتھ ڈاکٹر Smicht کو دکھانے کی غرض سے جنیوا روانہ ہو گئے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس روز ہیگ واپس جانا تھا لیکن آپ حضور کی معیت میں لیک لوسرن تک آئے اور وہاں سے شیخ ناصر احمد صاحب کے ہمراہ واپس چلے گئے۔مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، مکرم مشتاق باجوہ صاحب اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی قافلے میں شامل تھے۔راستے میں دوسری گاڑی حضور کی گاڑی سے بچھڑ گئی۔اس وجہ سے حضور کو بہت پریشانی ہوئی اور حضور کی طبیعت خراب ہوگئی۔رات کو جنیوا کے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔اگلے روز صبح کو حضور اُس ہو میو پیتھ ڈاکٹر صاحب کو دکھانے گئے۔اس ڈاکٹر نے حضور کے ہاتھ دیکھ کر کہا کہ آپ کی انگلیوں کی ساخت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کام کو فوری سرانجام دینا پسند کرتے ہیں۔اگلے روز حضرت خلیفہ مسیح الثانی واپس زیورک تشریف لے آئے۔۵ جون ۱۹۵۵ء کو حضرت مصلح موعود نے سوئٹزرلینڈ کے مقامی نومسلم احباب کو ہوٹل Belvoir Park میں چائے کی دعوت پر مدعو کیا۔حضور نے انہیں انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج سے تمہیں سال قبل جب میں آپ کے ملک میں سے گزرا تھا تو اس کے قدرتی مناظر مجھے بہت اچھے لگے تھے۔مگر آج میں آپ لوگوں کو پا کر اس سے بھی زیادہ خوش ہوا ہوں۔آپ میرے روحانی بیٹے ہیں اور روحانی بیٹوں کو پانے کی خوشی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ایک باپ کو اپنے جسمانی بیٹوں سے ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اپنا قرب عطا فرمائے اور آپ کو دینِ اسلام کو اپنے ملک میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔جواب میں نو مسلم حضرات نے اپنے اخلاص اور جذبات کا اظہار کیا۔واپس اپنی رہائش گاہ آتے ہوئے فرمایا کہ اس ملک میں ایسا اخلاص پیدا ہونا ایک عجیب نشان معلوم ہوتا ہے۔4 جولائی کو ایک مقامی اخبار Neue Zurcher Zeitung کے بیرونی ایڈیٹر ڈاکٹر سٹرائف (Streiff) نے حضور سے ملاقات کی۔9 جولائی کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب زیورک آگئے تا کہ حضور کے ساتھ اس سفر میں شامل ہوسکیں۔اس موقع پر سولیس ٹی وی نے حضور کا انٹرویو نشر کرنے کا پروگرام بنایا۔پہلے اُن کا پروگرام تھا