سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 469 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 469

469 ہونے کے لئے دعا کی تحریک فرمائی اور پھر زیورک سے باہر کھیتوں میں سیر کے لئے تشریف لے گئے۔۴ امئی کو دانتوں کے ڈاکٹر نے حضور کا معائنہ کیا اور Gold Filling کی۔اگلے روز اتوار کو ایک انگریز نو مسلم مسٹر لاسن ( Lowson) جو مشرقی افریقہ میں کام کرتے تھے لندن سے حضور سے ملاقات کے لئے تشریف لائے۔مسٹر لاسن نے شام کی چائے اور رات کا کھانا حضور کے ساتھ کھایا اور کچھ روز زیورک میں ہی ٹھہرے۔۱۸ مئی کو ڈاکٹر ہیس (Hess) نے حضور کے تفصیلی ٹسٹ کئے۔19 کو حضرت مصلح موعودؓ ہو میو پیتھ ڈاکٹر Gisel کو دکھانے گئے۔یہ ڈاکٹر صاحب بہت خوش مزاج آدمی تھے اور حضور کی بہت عزت کرتے تھے۔ان کو دکھانے کے بعد حضور کی طبیعت میں بشاشت پیدا ہو جاتی تھی۔اسی روز حضور ظہر اور عصر کی نماز کے بعد زیورک کی جھیل میں کشتی کی سیر کے لئے تشریف لے گئے۔۲۰ مئی کو حضور نے پندرہ منٹ تک خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور پھر ڈاکٹر روسیو سے مشورہ کے لئے تشریف لے گئے۔ڈاکٹر روسیو نے رائے دی کہ ٹسٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ دائیں طرف دماغ کے پچھلے حصہ میں خون کی رگوں میں بیماری کا حملہ ہوا تھا اور اب آپ کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔اس وقت آپ کو جو تکلیف معلوم ہوتی ہے اس کے لئے میں آپ کو ادویات لکھ دیتا ہوں۔البتہ انہوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ حضور کو قاتلانہ حملہ میں جو زخم لگا تھا وہ خطرناک تھا اور پاکستان میں ڈاکٹر کی رائے درست نہیں تھی کہ یہ زخم خطر ناک نہیں تھا۔چاقو کی نوک اندر ہی رہ گئی تھی اور ایکسرے میں ریڑھ کی ہڈی کے قریب نظر آ رہی ہے (۲۵)۔۲۱ مئی کو حضرت سیدہ ام وسیم صاحبہ اور حضرت سیدہ امِ ناصر صاحبہ اور محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کچھ عرصہ کے لئے لندن سے زیورک آگئے۔۲۲ مئی کو حضور نے پھر ہو میو پیتھ ڈاکٹر Gisel کو دکھایا۔۲۴ مئی کو عید تھی۔اس دن حضور کی طبیعت خراب تھی اس لئے آپ نے عید کی نماز نہیں پڑھائی۔مگر عید کے بعد حضور نے یورپ کے کچھ نو مسلمین کو شرف ملاقات بخشا۔۲۸ مئی کو۲ حضور نے ایک چوٹی کے Neurologist کو دکھایا انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور کی طبیعت اب بہتر ہے اور اگر مزید احتیاط کی جائے تو بیماری کے مزید حملے کا خطرہ نہیں ہے۔تین ماہ آرام کیا جائے اور پھر ہلکا ہلکا کام شروع کر دیا جائے اور یہ احتیاط کی جائے کہ کوفت نہ ہو۔ان دنوں میں پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد صاحب علاج کی غرض سے زیورک آئے ہوئے تھے۔حضرت مصلح موعود ، حضرت چوہدری ظفر اللہ ย