سلسلہ احمدیہ — Page 424
424 نہ بچ سکے جنہوں نے اس طوفانِ بدتمیزی سے الگ رہنے کی کوشش کی تھی۔(۱۱۷) اس تقریر کوسن کر یا پڑھ کر پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چندریگر صاحب عوام کو تو کوس رہے ہیں لیکن جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو وہ اس وقت صوبے کے گورنر تھے۔وہ خود اُس وقت کہاں پر غفلت کی نیند سورہے تھے؟ انہوں نے تو اس شورش کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔بلکہ جب غریب احمدیوں کو قتل کیا جا رہا تھا ، ان کی املاک کو لوٹا جا رہا تھا، ان کے گھروں کو نذر آتش کیا جا رہا تھا ، اس وقت چندریگر صاحب اور وزیر اعلیٰ دولتانہ صاحب وزیر اعظم کو فون کر کے دباؤ ڈال رہے تھے کہ فسادیوں کے مطالبات تسلیم کر لئے جائیں۔اُس وقت ان کی اپنی اخلاقی جرات کہاں تھی؟ فسادات دشمن کی مدد سے برپا کئے گئے ، وزیر اعظم کا اعلان: 19 مارچ کو ملک کی پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس تھا۔اس میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس تحریک میں مذہب کے نام پر وحشیانہ حرکات کی گئی ہیں۔احرار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ علماء قائد اعظم کو کافر اعظم کہتے تھے اور پاکستان کو پلیدستان کے نام سے پکارتے تھے۔انہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔آج تک انہوں نے ملک سے باہر روابط رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے سیاسی دنیا میں واپس آنے کے لئے یہ طریقہ استعمال کیا ہے۔(۱۱۸)۔۲۴ مارچ کو وزیر اعظم کے دباؤ کے نتیجے میں دولتانہ صاحب کو مستعفی ہونا پڑا۔فسادات کے دنوں میں ان کی حکومت نے جو کارگزاری دکھائی تھی وہ سب کے سامنے تھی۔ایک صحافی نے اس استعفے پر اپنے مضمون کا آغاز ان الفاظ سے کیا "Only a crocodile would shed tears on the fall of Daultana Ministry" دولتانہ وزارت کے استعفے پر صرف ایک مگر مچھ ہی آنسو بہا سکتا ہے۔(۱۱۹) دولتانہ صاحب ختم نبوت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔لیکن ان چالبازیوں کے نتیجے میں ان کے حصے میں صرف سیاسی زوال ہی آیا۔بعد میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بھی بنائی مگر انتخابات میں عبرتناک شکست سے دوچار ہوئے اور یہ جماعت اپنی موت آپ مرگئی۔ایک مرحلے پر ان کو پاکستان کا سفیر بنایا گیا۔ان کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی سیاسی